غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور
اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل
غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی حالات تیزی سے تباہ کن رخ اختیار کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف سخت موسمی حالات ہیں تو دوسری جانب قابض اسرائیل کے مسلسل حملے جاری ہیں جبکہ فلسطینی شہری اذیت سے دوچار ہیں ۔ اسرائیلی فوج نے اپنی بربریت جاری رکھتے ہوئے غزہ میں حملے کیے جس سے 3 صحافیوں سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔دو بچے بھی شامل ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہانٹر میک گورن نے کہا کہ غزہ پٹی اس وقت نہایت کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں ہے جہاں بڑی تعداد میں فلسطینی شہری عارضی اور نہایت کمزور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ ان پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں مقیم نہیں ہیں،وہ پرانے خیموں میں رہ رہے ہیں جو تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کے باعث بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہانٹر میک گورن نے بتایا کہ فلسطینی خاندان ایک طویل عرصے سے ان خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور موسم سرما اور سیلابی صورتحال کے باعث انہیں متعدد بار اپنے خیمے منتقل کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خیمے اپنی بہترین حالت میں بھی نہایت نازک ہوتے ہیں اور اب ان پر بوسیدگی اور ٹوٹ پھوٹ کے واضح آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دل دہلا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بچے شدید سردی کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں اور بالغ افراد بھی اسی خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال کو محض انسانی تباہی کہنا بھی اس المیے کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ کئی فلسطینی خاندان محدود تعداد میں کمبلوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں اور اگر یہ کمبل بھیگ جائیں تو اس کے نتائج نہایت ہولناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہانٹر میک گورن نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ قابض اسرائیل کے حملے بدستور باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ اسی کے ساتھ قابض اسرائیل نے غزہ میں کام کرنے والی بعض بین الاقوامی سول سوسائٹی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ شہر میں اطباء بلا حدود کے منصوبے کے تحت تقریباً 2900 مریض زیر علاج ہیں اور اس تنظیم کو بھی ان اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ ہانٹر میک گورن نے واضح کیا کہ یہ مریض بڑی حد تک اطباء بلا حدود کی فراہم کردہ طبی خدمات پر انحصار کرتے ہیں اور دیگر امدادی تنظیموں کی مدد اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ہانٹر میک گورن نے انہوں نے رہے ہیں ہیں اور کہ غزہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔