بھارت میں مسیحی پادری کو زبردستی گوبر کھلانے کا واقعہ، ملزموں کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بھارتی ریاست اوڈیشہ میں مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں کے ہاتھوں تشدد اور عوامی تذلیل کا نشانہ بننے والے ایک مسیحی پادری نے حملہ آوروں کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم واقعے کے 2 ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کسی گرفتاری نہ ہونے پر مقامی مسیحی برادری میں شدید خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
یہ واقعہ 4 جنوری کو پارجنگ گاؤں میں پیش آیا، جہاں پادری بپن بہاری نائک اپنے گھر میں اہلِ خانہ اور سات دیگر مسیحی خاندانوں کے افراد کے ساتھ دعائیہ اجتماع کر رہے تھے۔ اہلِ خانہ کے مطابق 40 سے زائد افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے گھر پر دھاوا بول دیا اور شدید تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو انتہا پسندوں کے حملوں کا سامنا
الزام ہے کہ پادری نائک کو لاٹھیوں سے مارا گیا، ان کے چہرے پر سرخ سندور مل دیا گیا، جوتوں کی مالا پہنائی گئی، گاؤں میں گھمایا گیا اور زبردستی گائے کا گوبر کھلایا گیا، جبکہ ان سے ‘جے شری رام’ کے نعرے لگوائے گئے۔
پادری کی اہلیہ وندنا نائک کے مطابق حملہ اچانک اور نہایت خوفناک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کسی طرح بچوں کے ساتھ تنگ گلی سے نکل کر پولیس اسٹیشن پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، جبکہ پولیس کو ہیلپ لائن پر اطلاع دینے کے باوجود کارروائی میں تاخیر کی گئی اور ایف آئی آر اور طبی ثبوت جیسی رسمی کارروائیوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: انڈیا سے بغیر ایندھن جہاز اُڑا کر پاکستان لانے والے مسیحی پائلٹ
پادری بپن بہاری نائک نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں بے دردی سے مارا گیا، ذلیل کیا گیا اور زبردستی ناپاک چیز کھلائی گئی، تاہم وہ خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ ان کے خاندان اور تمام مسیحی ماننے والوں کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے اور اپنے عقیدے پر آزادانہ عمل کرنے کی اجازت دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقلیت انڈیا مسیحی برادری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :