مقبوضہ کشمیر میں صحافت پر شب خون، مودی کی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ آشکار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سچ بولنے والے صحافیوں کو تھانوں میں گھسیٹ کر خوف کی فضا مسلط کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد کے منتظمین کی معلومات جمع کرنے کی مہم کو منظم دباؤ قرار دے دیا ہے۔
برطانوی جریدے کے مطابق مودی کے حکم پر مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو تھانے طلب کرنے پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ مساجد کی پروفائلنگ کی خبر شائع کرنے پر سرینگر میں صحافیوں کو سائبر پولیس نے طلب کیا۔
صحافیوں پر بے جا پابندیوں سے مودی نے مقبوضہ کشمیر میں صحافت کو عملاً یرغمال بنا لیا ہے۔ برطانوی جریدہ کے مطابق انڈین ایکسپریس کے صحافی بشارت مسعود کو حلفیہ بیان پر دستخط کیلئے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے نامہ نگار عاشق حسین کو بھی اسی خبر پر پولیس طلبی کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی ارکان اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کو طلب کرنے کے عمل کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی رپورٹنگ پر قید و بند کا سامنا ہے جس کیوجہ سے مودی کے اقتدار میں جمہوریت محض ایک دکھاوا رہ گئی ہے۔
اسی طرح فہد شاہ کے اخبار کشمیر والا کو بند کر کے انہیں سینٹرل جیل بھیجا گیا اور 21 ماہ بعد ضمانت ملی۔ گزشتہ سال جموں میں اخبار کی اشاعت معطل ہونے کے باوجود کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صحافیوں کو کا سامنا
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔