لاہور سمیت پنجاب میں بارش سے موسم مزید سرد، مری میں شدید برفباری سے رابطہ سڑکیں بند
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
لاہور سمیت پنجاب بھر کے میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آج رات اور 23 جنوری کے دوران تیز بارش اور شدید برفباری کا امکان ہے۔ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 4 اور زیادہ سے زیادہ 12ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری میں شام سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک تقریباً 12 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، مری اور گردونواح میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔
مری ایکسپریس وے (این-75) پر شدید برف باری کے بعد پھلگراں ٹال پلازہ سے مری کی طرف ہر قسم کی ٹریفک بند کر دی گئی۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق مری ایکسپریس وے پر برف باری کے باعث ضلعی انتظامیہ نے مری جانے والی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا۔ مزید اور تازہ ترین ٹریفک اپڈیٹس کے لیے @NHMP کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس فالو کریں۔
پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور محتاط رہنے کی ہدایت کر دی۔ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم کی سے موسم کی صورتحال پر مسلسل نگرانی جاری ہے، ایمرجنسی کی صورت میں 1129 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیںمری میں 20 انچ تک برف باری متوقع، پنجاب حکومت کی اہم ہدایات جاری
دوسری جانب، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر مری میں مؤثر و مربوط انتظامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سیاحوں میں خوش میوہ جات اور کھانے پینے کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ ہائی وے کا عملہ شاہراہوں سے برف ہٹانے کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
صوبائی وزیر مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ مری میں تمام تر انتظامات کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ ٹورسٹ کیمپس مکمل فعال، تمام محکموں کے ملازمین ڈیوٹی پر موجود ہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راولپنڈی میں سب سے زیادہ بارش 38 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ چکلالہ میں 38، کچہری 15، شمسباد 16 اور پیر ودہائی میں 12 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
چکوال میں 37، سیالکوٹ 34، نارووال 33، منگلا 29، اٹک 28 اور سرگودھا میں 27 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ جہلم میں 23، جوہرآباد 22، لاہور 21، گجرات 20، ملتان 19، نورپور تھل 16 اور لیہ میں 15 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ریکارڈ کی گئی۔
حافظ آباد میں 13، شیخوپورہ 11، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ 10، کوٹ ادو 09، ڈی جی خان 7، خانیوال 6، ساہیوال اور فیصل آباد میں 4 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے موسمی صورتحال کی نگرانی جاری، شہری بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کی گئی پی ڈی ایم اے بارش ریکارڈ ملی میٹر تک کے مطابق جاری ہے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین