رواں ماہ کے آخر تک کراچی میں موسم سرد رہ سکتا ہے: محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر میں گزشتہ روز کی بارش کے بعد موسم نے اپنا رخ بدل لیا ہے اور سردی کی شدت میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ سے چلنے والی ہوائیں 20 سے 22 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شہر میں داخل ہو رہی ہیں اور توقع ہے کہ کل یہ رفتار 30 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے سردی زیادہ محسوس ہوگی۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک کراچی میں سردی کا سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ رات کے درجہ حرارت میں 9 سے 12 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی پیشگوئی ہے جبکہ دن کے دوران درجہ حرارت 22 سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔ سرد تیز ہوائیں اور نچلے درجے کا درجہ حرارت شہریوں کے لیے سرد موسم کو مزید کٹھن بنا دے گا۔
مزید برآں، محکمہ موسمیات نے 27 یا 28 جنوری کے روز ملک کے شمالی حصوں میں مغربی ہواؤں کے ایک نیا سسٹم کے اثرات کے بارے میں پیشگوئی کی ہے۔
اس دوران سندھ کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان کم ہے، تاہم مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، جس سے سردی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
شہریوں کو احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے کہ سردیوں کے اس دوران مناسب لباس اور گرمی کے انتظامات کو نظر انداز نہ کریں، تاکہ سرد ہواؤں اور نچلے درجہ حرارت کے اثرات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔