data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: کینسر کے علاج میں پچھلی دہائیوں میں بے شمار ترقی ہوئی ہے، مگر ایک سب سے بڑا چیلنج اب بھی برقرار ہے: مرض کا دوبارہ لوٹ آنا، جسے ریلیپس (Relapse) کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر مریض سرجری، کیمو تھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کئی سال بعد یہ مہلک مرض دوبارہ ظاہر ہوتا ہے اور اس بار پہلے سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔

سائنسدان اب اس بات کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ کینسر کی واپسی کی بنیادی وجہ “کینسر اسٹیم سیلز” نامی مخصوص خلیات ہیں، جو روایتی علاج جیسے کیمو تھراپی اور ریڈی ایشن سے بچ نکلتے ہیں۔ یہ خلیات عام کینسر خلیات سے مختلف رویہ اختیار کرتے ہیں اور جسم میں سوتے یا چھپے ہوئے طویل عرصے تک موجود رہ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے بعد میں وہ دوبارہ ٹیومر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

ورجینیا کامنز یونیورسٹی کے پروفیسر اومیش دِیسائی اور ڈاکٹر بھاؤمیک پٹیل نے برسوں کی تحقیق کے بعد ایک نیا مولیکیول، جسے “G2.

2” کا نام دیا گیا ہے، دریافت کیا ہے۔ یہ مولیکیول سوتے ہوئے کینسر اسٹیم سیلز کو فعال کرکے انہیں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، G2.2 اسٹیم سیلز کے اندر موجود مخصوص ریسیپٹر کے ساتھ تعامل کر کے انہیں نیند سے بیدار کرتا ہے۔ جب یہ خلیات فعال ہو جاتے ہیں، تو G2.2 کے سگنلز ان خلیات کو خود تخریب کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یوں دوبارہ ٹیومر بننے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

لیبارٹری میں ابتدائی تجربات میں مختلف اقسام کے کینسر جیسے کولورییکٹل، پھیپھڑوں، دماغ، گردہ اور لبلبے میں اس طریقے سے سوتے ہوئے اسٹیم سیلز کو بیدار کر کے ختم کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج پر G2.2 محفوظ نظر آتا ہے اور اس نے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے آثار بھی دکھائے ہیں۔

اگرچہ یہ مولیکیول ابھی پری کلینیکل مرحلے میں ہے اور انسانوں پر استعمال کے لیے تیار نہیں ہوا، مگر ماہرین اسے کینسر کے دوبارہ ظہور کو روکنے میں ایک امید افزا پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کے لیے نجات کا سبب بن سکتی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیم سیلز

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ

ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔

اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔

آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا