کینسر کے دوبارہ نمودار ہونے کے راز فاش، سائنسدانوں نے مؤثر علاج دریافت کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: کینسر کے علاج میں پچھلی دہائیوں میں بے شمار ترقی ہوئی ہے، مگر ایک سب سے بڑا چیلنج اب بھی برقرار ہے: مرض کا دوبارہ لوٹ آنا، جسے ریلیپس (Relapse) کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر مریض سرجری، کیمو تھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کئی سال بعد یہ مہلک مرض دوبارہ ظاہر ہوتا ہے اور اس بار پہلے سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔
سائنسدان اب اس بات کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ کینسر کی واپسی کی بنیادی وجہ “کینسر اسٹیم سیلز” نامی مخصوص خلیات ہیں، جو روایتی علاج جیسے کیمو تھراپی اور ریڈی ایشن سے بچ نکلتے ہیں۔ یہ خلیات عام کینسر خلیات سے مختلف رویہ اختیار کرتے ہیں اور جسم میں سوتے یا چھپے ہوئے طویل عرصے تک موجود رہ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے بعد میں وہ دوبارہ ٹیومر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ورجینیا کامنز یونیورسٹی کے پروفیسر اومیش دِیسائی اور ڈاکٹر بھاؤمیک پٹیل نے برسوں کی تحقیق کے بعد ایک نیا مولیکیول، جسے “G2.
تحقیق کے مطابق، G2.2 اسٹیم سیلز کے اندر موجود مخصوص ریسیپٹر کے ساتھ تعامل کر کے انہیں نیند سے بیدار کرتا ہے۔ جب یہ خلیات فعال ہو جاتے ہیں، تو G2.2 کے سگنلز ان خلیات کو خود تخریب کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یوں دوبارہ ٹیومر بننے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
لیبارٹری میں ابتدائی تجربات میں مختلف اقسام کے کینسر جیسے کولورییکٹل، پھیپھڑوں، دماغ، گردہ اور لبلبے میں اس طریقے سے سوتے ہوئے اسٹیم سیلز کو بیدار کر کے ختم کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج پر G2.2 محفوظ نظر آتا ہے اور اس نے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے آثار بھی دکھائے ہیں۔
اگرچہ یہ مولیکیول ابھی پری کلینیکل مرحلے میں ہے اور انسانوں پر استعمال کے لیے تیار نہیں ہوا، مگر ماہرین اسے کینسر کے دوبارہ ظہور کو روکنے میں ایک امید افزا پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کے لیے نجات کا سبب بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیم سیلز
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔