وادی تیراہ نقل مکانی میں 2 دن کی توسیع، متاثرین کیلئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد پشاور (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) برف باری، شدید موسم میںپاک فوج کی جانب سے تیراہ سے عارضی انخلاءکرنے والے شہریوں کے لیے برف باری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد کو خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کیا جا رہا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی خصوصی دیکھ بھال کے لئے الگ انتظامات کیے گئے ۔ دریں اثناءوادی تیراہ میں علاقہ میدان سے نقل مکانی کی ڈیڈ لائن میں دو روز کی توسیع کر دی گئی۔ متاثرین 25 جنوری کے بجائے 27 جنوری تک نقل مکان کر سکیں گے توسیع کا فیصلہ جاری بارشوں کے باعث نقل مکانی میں پیش آنے والی مشکلات کے باعث کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ارشاد مہمند نے بتایا کہ درجنوں خاندانوں کو لیکر گاڑیاں رجسٹریشن پوائنٹ پر کلیئرنس کے انتظار میں ہیں، رجسٹریشن پوائنٹ پر کلیئرنس کے انتظار کرنے والے خاندان اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں، بارش تھم جائے تو نقل مکانی اور رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کریں گے، دو ہفتوں کے دوران دس ہزار سے زائد خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو ایڈوانس ڈھائی لاکھ روپے نقد مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو پچاس ہزار روپے ماہانہ فراہم کی جائے۔ دو ماہ کے اندر فوجی آپریشن مکمل کیا جائے گا 5 اپریل سے متاثرین کی واپسی اور بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نقل مکانی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔