Jasarat News:
2026-07-24@16:11:57 GMT

عام ویکسین سے حیاتیاتی عمر میں کمی کا سائنسی دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائنس اور طب کی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شِنگلز سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی عام ویکسین نہ صرف وائرل انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ عمر رسیدہ افراد میں حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار کو بھی سست کر سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں صحت مندی کے ساتھ عمر گزارنے کے تصور کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے اور ویکسین کے استعمال کے فوائد کو ایک نئی جہت دے سکتی ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے وابستہ محققین کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں 3 ہزار 800 سے زائد افراد کے طبی اور حیاتیاتی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ وہ افراد جنہیں شنگلز کی ویکسین دی گئی تھی، ان میں سوزش، جسمانی تنزلی اور حیاتیاتی عمر بڑھنے کی علامات ان افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھیں جنہوں نے یہ ویکسین نہیں لگوائی تھی۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ فرق محض اتفاق نہیں بلکہ ویکسین کے جسم پر پڑنے والے دیرپا اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ جنگ کی کِم کے مطابق انسانی جسم میں مسلسل پس منظر کی سوزش بڑھاپے، کمزوری اور متعدد بیماریوں کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ شنگلز ویکسین نہ صرف اس وائرس کو دوبارہ فعال ہونے سے روکتی ہے بلکہ جسم میں موجود اسی سوزش کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی عمل عمر کے ساتھ صحت مند رہنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ممکنہ طور پر طویل المدتی فوائد کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ اس تحقیق کے نتائج حالیہ برسوں میں ہونے والی دیگر سائنسی مطالعات کی بھی تائید کرتے ہیں، جن میں شنگلز اور انفلوئنزا جیسی ویکسینز کو ڈیمنشیا اور دیگر نیوروڈی جنریٹیو امراض کے کم خطرے سے جوڑا گیا تھا۔ ان مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ ویکسینز مدافعتی نظام کو بہتر طریقے سے متحرک رکھتی ہیں، جس سے دماغی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ویکسین بڑھاپے کو مکمل طور پر روکنے کا ذریعہ نہیں، تاہم صحت مند عمر رسیدگی کے عمل میں یہ ایک اہم معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں مزید تحقیق کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا دیگر ویکسینز بھی اسی طرح کے فوائد فراہم کر سکتی ہیں یا نہیں۔

ماہرین کے نزدیک یہ دریافت جدید طب میں ایک نیا باب کھولنے کے مترادف ہے، جس سے انسانی صحت اور طویل العمری کے تصورات میں بنیادی تبدیلی آ سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سکتی ہے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • سیاروں، ستاروں اور چاند کی حدیں دھندلا گئیں، ماہرین نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر چاند دریافت کر لیا
  • ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ