بلوچستان کے برفباری سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے نے ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا ہے۔ شدید موسمی حالات کے باعث برف میں پھنسنے والی درجنوں گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ شدید سردی اور برفباری کے دوران سینکڑوں مسافروں کو بروقت ریسکیو کیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں محفوظ رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری، اہم قومی شاہراہیں بند

 انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیموں نے مشکل حالات میں پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا۔

شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کے لیے خراج تحسین پیش کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے افسران اور فیلڈ میں کام کرنے والی ٹیموں کے لیے حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹس دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پہلی برفباری، آج مزید کن علاقوں میں برف پڑے گی؟

معاون وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان قدرتی آفات کے دوران عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام اداروں کو ہمہ وقت متحرک رکھے ہوئے ہے، جبکہ آئندہ بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بلوچستان پاکستان ریسکیو آپریشن سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان پاکستان ریسکیو ا پریشن سرفراز بگٹی وزیراعلی بلوچستان ریسکیو آپریشن بلوچستان کے پی ڈی ایم اے علاقوں میں کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم