کوٹری میں کار اور ڈمپر کے درمیان تصادم ، 8 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کوٹری:
چاول کے گودام کے قریب کار اور ڈمپر میں تصادم کے نتیجے میں پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچیاں، دو لڑکے، ایک خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد انڈس پہاڑی کا رہائشی تھا اور حیدرآباد سے ٹھٹھہ جا رہے تھے کہ راستے میں یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
مزید پڑھیںسرگودھا میں بھوسے سے لدا ٹرک الٹ گیا، 4 افراد جاں بحق، 8 زخمی
چترال میں مسافر کوچ حادثہ، دو افراد جاں بحق
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد کار بری طرح تباہ ہو گئی جس کی وجہ سے لاشیں نکالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مقامی افراد کی مدد سے کار کے مختلف حصے توڑ کر لاشیں نکالنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔
بعد ازاں ریسکیو 1122 کا عملہ مطلوبہ مشینری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور کار میں پھنسی لاشوں کو نکال کر اسپتال منتقل کروادیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔