’’ہم سمجھے معمولی آگ ہے، پر دھویں نے سب لپیٹ لیا‘‘
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے دوران عمارت میں موجود کراکری کی دکان کے مالک نے بتایا ہے کہ وہ اپنی دکان پر معمول کے کام میں مصروف تھا کہ اچانک 5 سے 6 خواتین بھاگتی ہوئی آئیں اور دہائی دی کہ آگ لگ گئی ہے ہمیں یہاں سے نکالو۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ چاروں طرف دھواں بھر چکا تھا، جس کی وجہ سے راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا اور میں خواتین کو لے کر دوبارہ اپنی دکان کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ حیران کن انکشاف کرتے ہوئے دکاندار نے بتایا کہ گل پلازہ میں اس سے پہلے بھی 10 مرتبہ آگ لگنے کے چھوٹے واقعات ہوچکے تھے، اس لیے شروع میں ہم نے اسے نارمل لیا اور اپنی دکانیں بند کرنے لگے۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ آگ اتنی شدت اختیار کر جائے گی کہ جان بچانا مشکل ہو جائے گا۔ دکاندار عینی شاہد نے عمارت کے ہنگامی اخراج کے راستوں کے حوالے سے اہم معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ نیچے اترنے والے چاروں مرکزی دروازے بند ہوچکے تھے۔ صرف مسجد کی طرف جانے والا راستہ اور ایک ریمپ کا دروازہ کھلا تھا جہاں سے ہم اپنی جان بچا کر بھاگے۔ عمارت کی چھت پر 100 سے زائد موٹر سائیکلیں اور 7 گاڑیاں کھڑی تھیں، لیکن جب آگ پھیلی تو کوئی بھی اپنی سواری نکالنے کے قابل نہیں رہا اور سب اپنی زندگی بچانے کے لیے سب کچھ وہیں چھوڑ کر بھاگے۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ صرف پرانے دکانداروں کو ہی علم تھا کہ کون سے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور کون سے بند، جس کی وجہ سے نئے آنے والوں اور گاہکوں کیلیے باہر نکلنا ناممکن ہوگیا۔ اس نے بتایا کہ وہ سب سے آخر میں وہاں سے بچ کر نکلنے والے خوش قسمت افراد میں شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔