بالی ووڈ کی سابق اداکارہ و پروڈیوسر ریمی سین جو 2000ء کی دہائی کے اوائل میں بالی ووڈ کی ایک بڑی اور مقبول اداکارہ رہی ہیں، ایک بار پھر خبروں میں ہیں، جس کی وجہ اس بار فلمیں نہیں بلکہ دبئی کے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں ان کی کامیابی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 44 سالہ ریمی سین فلم ہنگامہ، دھوم، گول مال، پھر ہیرا پھیری اور جونی غدار جیسی مقبول فلموں میں کام کر چکی ہیں، اب انہوں نے بالی ووڈ سے اپنی دوری کے بارے میں بات کی ہے۔

کافی عرصے سلور اسکرین پر شہرت حاصل کرنے کے بعد ریمی کا ہندی فلموں کے ساتھ رشتہ آہستہ آہستہ ٹوٹ گیا، جس کے بعد واپسی کا انتظار کرنے کے بجائے انہوں نے آگے بڑھنے اور بالی ووڈ سے باہر اپنی قسمت خود بنانے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ دبئی جا پہنچیں اور وہاں انہوں نے پراپرٹی کے کاروبار میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے بات چیت کے دوران دبئی کو اپنے لیے ایک خوش آمدید کہنے والا شہر قرار دیا اور کہا کہ دبئی کی تقریباً 95 فیصد آبادی غیر ملکی باشندوں پر مشتمل ہے۔

کولکتہ سے تعلق رکھنے والی ریمی کا کہنا ہے کہ یہ شہر ہر پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے دبئی کا تقابل بھارت سے کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بزنس کرنا کافی مشکل ہوتا ہے، جہاں پالیسیاں مسلسل تبدیل، بہت زیادہ ٹیکس اور پیچیدہ قواعد ہوتے ہیں، اس کے بر خلاف دبئی میں سب کلیئر ہے اور غیر یقینی صورتِ حال نہیں۔

خاص طور پر پراپرٹی انڈسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریمی نے کہا کہ پراپرٹی انڈسٹری اس لیے صحیح طریقے سے کام کر رہی ہے کیونکہ اس میں نظم و ضبط اور قوانین موجود ہیں، دبئی میں پراپرٹی مارکیٹ بڑھ رہی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنا فکسڈ ڈیپازٹس کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔

انہوں نے بالی ووڈ کے بارے میں کہا کہ وہاں خواتین ایکٹرز کی زندگی مختصر اور مرد سپر اسٹارز سالوں راج کرتے ہیں، آج بھی سلمان، شاہ رخ خان وہاں پر راج کر رہے ہیں، یہ سب دیکھنے کے بعد میں نے بہتر آمدنی کے لیے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بالی ووڈ انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا