سابق بالی ووڈ اداکارہ ریمی سین کی دبئی کی ریئل اسٹیٹ میں کامیابیاں
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کی سابق اداکارہ و پروڈیوسر ریمی سین جو 2000ء کی دہائی کے اوائل میں بالی ووڈ کی ایک بڑی اور مقبول اداکارہ رہی ہیں، ایک بار پھر خبروں میں ہیں، جس کی وجہ اس بار فلمیں نہیں بلکہ دبئی کے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں ان کی کامیابی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 44 سالہ ریمی سین فلم ہنگامہ، دھوم، گول مال، پھر ہیرا پھیری اور جونی غدار جیسی مقبول فلموں میں کام کر چکی ہیں، اب انہوں نے بالی ووڈ سے اپنی دوری کے بارے میں بات کی ہے۔
کافی عرصے سلور اسکرین پر شہرت حاصل کرنے کے بعد ریمی کا ہندی فلموں کے ساتھ رشتہ آہستہ آہستہ ٹوٹ گیا، جس کے بعد واپسی کا انتظار کرنے کے بجائے انہوں نے آگے بڑھنے اور بالی ووڈ سے باہر اپنی قسمت خود بنانے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ دبئی جا پہنچیں اور وہاں انہوں نے پراپرٹی کے کاروبار میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے بات چیت کے دوران دبئی کو اپنے لیے ایک خوش آمدید کہنے والا شہر قرار دیا اور کہا کہ دبئی کی تقریباً 95 فیصد آبادی غیر ملکی باشندوں پر مشتمل ہے۔
کولکتہ سے تعلق رکھنے والی ریمی کا کہنا ہے کہ یہ شہر ہر پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے دبئی کا تقابل بھارت سے کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بزنس کرنا کافی مشکل ہوتا ہے، جہاں پالیسیاں مسلسل تبدیل، بہت زیادہ ٹیکس اور پیچیدہ قواعد ہوتے ہیں، اس کے بر خلاف دبئی میں سب کلیئر ہے اور غیر یقینی صورتِ حال نہیں۔
خاص طور پر پراپرٹی انڈسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریمی نے کہا کہ پراپرٹی انڈسٹری اس لیے صحیح طریقے سے کام کر رہی ہے کیونکہ اس میں نظم و ضبط اور قوانین موجود ہیں، دبئی میں پراپرٹی مارکیٹ بڑھ رہی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنا فکسڈ ڈیپازٹس کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔
انہوں نے بالی ووڈ کے بارے میں کہا کہ وہاں خواتین ایکٹرز کی زندگی مختصر اور مرد سپر اسٹارز سالوں راج کرتے ہیں، آج بھی سلمان، شاہ رخ خان وہاں پر راج کر رہے ہیں، یہ سب دیکھنے کے بعد میں نے بہتر آمدنی کے لیے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بالی ووڈ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔