عالمی ٹیک کمپنی میں نئی چھانٹیوں کا خدشہ: ہزاروں ملازمین کی بیروزگاری کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل ایمازون ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کمپنی آئندہ دنوں میں ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کر سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر ملازمین میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی خبر رساں اداروں رائٹرز اور بلومبرگ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایمازون کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی جیسی مستقبل قریب میں نئی چھانٹیوں کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کر سکتے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے اور اس کا دائرہ مختلف شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔
یہ قیاس آرائیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب محض چند ماہ قبل ہی ایمازون نے تقریباً 14 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی میں جاری لاگت کم کرنے کی پالیسی، عالمی معاشی دباؤ اور ٹیک سیکٹر میں سست روی ایسے عوامل ہیں جو مسلسل چھانٹیوں کی بنیادی وجہ بن رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایمازون نے گزشتہ برسوں میں ریکارڈ منافع حاصل کیا، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے باعث ملازمین کی تعداد کم کرنے کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایمازون کے موجودہ ملازمین بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
ابھی تک ایمازون کی جانب سے اس ممکنہ اقدام پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم کمپنی کی خاموشی بھی ان رپورٹس کو تقویت دے رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایمازون اسی نوعیت کی رپورٹس کے بعد چھانٹیوں کا اعلان کر چکا ہے، جس کے باعث ملازمین ان خبروں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ