data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل ایمازون ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کمپنی آئندہ دنوں میں ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کر سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر ملازمین میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

امریکی خبر رساں اداروں رائٹرز اور بلومبرگ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایمازون کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی جیسی مستقبل قریب میں نئی چھانٹیوں کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کر سکتے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے اور اس کا دائرہ مختلف شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔

یہ قیاس آرائیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب محض چند ماہ قبل ہی ایمازون نے تقریباً 14 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی میں جاری لاگت کم کرنے کی پالیسی، عالمی معاشی دباؤ اور ٹیک سیکٹر میں سست روی ایسے عوامل ہیں جو مسلسل چھانٹیوں کی بنیادی وجہ بن رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایمازون نے گزشتہ برسوں میں ریکارڈ منافع حاصل کیا، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے باعث ملازمین کی تعداد کم کرنے کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایمازون کے موجودہ ملازمین بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

ابھی تک ایمازون کی جانب سے اس ممکنہ اقدام پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم کمپنی کی خاموشی بھی ان رپورٹس کو تقویت دے رہی ہے۔ ماضی میں بھی ایمازون اسی نوعیت کی رپورٹس کے بعد چھانٹیوں کا اعلان کر چکا ہے، جس کے باعث ملازمین ان خبروں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان