ڈپریشن دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ذہنی بیماریوں میں شامل ہے، جس کا علاج عموماً اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے کیا جاتا ہے، تاہم بڑی تعداد میں مریض ایسے ہیں جن پر یہ ادویات خاطر خواہ اثر نہیں کرتیں۔ اب آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے برین اینڈ مائنڈ سینٹر کی ایک بڑی تحقیق نے اس سوال کا سائنسی جواب پیش کر دیا ہے، جو مستقبل میں ڈپریشن کے علاج کا طریقہ بدل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیریئر کے عروج میں ذاتی مسائل نے مجھے ڈپریشن میں مبتلا کردیا تھا، ثانیہ مرزا

تحقیق کے مطابق ڈپریشن کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف اقسام پر مشتمل کیفیت ہے، جن کے علاج کے لیے یکساں طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔ اس مطالعے میں تقریباً 15 ہزار آسٹریلوی افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جو اب تک کی سب سے بڑی تحقیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا ’Australian Genetics of Depression Study‘ کے تحت جمع کیا گیا، جس میں مریضوں کی علامات، طبی تاریخ اور جینیاتی معلومات شامل تھیں۔

Are We Misinterpreting Remission as Functional Recovery in Major Depressive Disorder (MDD)?

Standard therapy for MDD focuses on top-down suppression of the GRIEF and PANIC Systems.

While this effectively reduces mental pain, clinical data suggests it fails to reignite the… pic.twitter.com/ewwga0kBA4

— Psychiatry Excellence (@psycheureka) January 23, 2026

محققین نے دریافت کیا کہ تقریباً 21 فیصد افراد ایک مخصوص قسم کے ڈپریشن کا شکار تھے، جسے ’ای ٹائپیکل ڈپریشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کے مریضوں میں عام ڈپریشن کے برعکس وزن میں کمی اور نیند کی کمی کے بجائے وزن میں اضافہ اور غیر معمولی حد تک زیادہ نیند کی شکایت پائی گئی۔ ایسے افراد شدید تھکن، جسمانی و ذہنی سستی اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کا شکار رہے۔

سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ ای ٹائپیکل ڈپریشن کے مریض عام اینٹی ڈپریسنٹ ادویات، جیسے ایس ایس آر آئیز اور ایس این آر آئیز، پر بہتر ردعمل نہیں دیتے۔ الٹا ان ادویات سے وزن بڑھنے جیسے سائیڈ ایفیکٹس پیدا ہوتے ہیں، جس سے مریضوں کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور وہ علاج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈپریشن سے متعلق بیان، عینا آصف نے وضاحت پیش کر دی

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر میرم شن کے مطابق اس مخصوص گروپ میں میٹابولزم، مدافعتی نظام، سوزش اور نیند کے نظام سے جڑے جینیاتی عوامل زیادہ پائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کا ڈپریشن ایک مختلف حیاتیاتی راستے سے جڑا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی ادویات ان پر مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ذاتی نوعیت کے علاج (Personalised Treatment) کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں ہر مریض کی علامات، جینیاتی ساخت اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر علاج کا انتخاب کیا جائے۔ اس طریقے سے نہ صرف آزمائش اور غلطی کا طویل عمل کم ہو سکتا ہے بلکہ سائیڈ ایفیکٹس کا خطرہ بھی گھٹایا جا سکتا ہے۔

اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مطالعہ ڈپریشن کی بہتر تشخیص اور مؤثر علاج کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ادویات اینٹی ڈپریشن ڈپریشن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ادویات اینٹی ڈپریشن ڈپریشن

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی