اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ناکام کیوں ہو جاتی ہیں؟ سائنس نے وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ڈپریشن دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ذہنی بیماریوں میں شامل ہے، جس کا علاج عموماً اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے کیا جاتا ہے، تاہم بڑی تعداد میں مریض ایسے ہیں جن پر یہ ادویات خاطر خواہ اثر نہیں کرتیں۔ اب آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے برین اینڈ مائنڈ سینٹر کی ایک بڑی تحقیق نے اس سوال کا سائنسی جواب پیش کر دیا ہے، جو مستقبل میں ڈپریشن کے علاج کا طریقہ بدل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیریئر کے عروج میں ذاتی مسائل نے مجھے ڈپریشن میں مبتلا کردیا تھا، ثانیہ مرزا
تحقیق کے مطابق ڈپریشن کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف اقسام پر مشتمل کیفیت ہے، جن کے علاج کے لیے یکساں طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔ اس مطالعے میں تقریباً 15 ہزار آسٹریلوی افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جو اب تک کی سب سے بڑی تحقیقات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا ’Australian Genetics of Depression Study‘ کے تحت جمع کیا گیا، جس میں مریضوں کی علامات، طبی تاریخ اور جینیاتی معلومات شامل تھیں۔
Are We Misinterpreting Remission as Functional Recovery in Major Depressive Disorder (MDD)?
Standard therapy for MDD focuses on top-down suppression of the GRIEF and PANIC Systems.
While this effectively reduces mental pain, clinical data suggests it fails to reignite the… pic.twitter.com/ewwga0kBA4
— Psychiatry Excellence (@psycheureka) January 23, 2026
محققین نے دریافت کیا کہ تقریباً 21 فیصد افراد ایک مخصوص قسم کے ڈپریشن کا شکار تھے، جسے ’ای ٹائپیکل ڈپریشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کے مریضوں میں عام ڈپریشن کے برعکس وزن میں کمی اور نیند کی کمی کے بجائے وزن میں اضافہ اور غیر معمولی حد تک زیادہ نیند کی شکایت پائی گئی۔ ایسے افراد شدید تھکن، جسمانی و ذہنی سستی اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کا شکار رہے۔
سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ ای ٹائپیکل ڈپریشن کے مریض عام اینٹی ڈپریسنٹ ادویات، جیسے ایس ایس آر آئیز اور ایس این آر آئیز، پر بہتر ردعمل نہیں دیتے۔ الٹا ان ادویات سے وزن بڑھنے جیسے سائیڈ ایفیکٹس پیدا ہوتے ہیں، جس سے مریضوں کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور وہ علاج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈپریشن سے متعلق بیان، عینا آصف نے وضاحت پیش کر دی
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر میرم شن کے مطابق اس مخصوص گروپ میں میٹابولزم، مدافعتی نظام، سوزش اور نیند کے نظام سے جڑے جینیاتی عوامل زیادہ پائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کا ڈپریشن ایک مختلف حیاتیاتی راستے سے جڑا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی ادویات ان پر مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ذاتی نوعیت کے علاج (Personalised Treatment) کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں ہر مریض کی علامات، جینیاتی ساخت اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر علاج کا انتخاب کیا جائے۔ اس طریقے سے نہ صرف آزمائش اور غلطی کا طویل عمل کم ہو سکتا ہے بلکہ سائیڈ ایفیکٹس کا خطرہ بھی گھٹایا جا سکتا ہے۔
اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مطالعہ ڈپریشن کی بہتر تشخیص اور مؤثر علاج کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادویات اینٹی ڈپریشن ڈپریشن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادویات اینٹی ڈپریشن ڈپریشن
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم