گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے: ترنم ناز
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) معروف غزل گو اور کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے غم سے مداحوں کو آگاہ کر دیا۔
لیجنڈری کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے حال ہی میں پروگرام میں شرکت کی اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔ سوال کے جواب میں ترنم ناز نے بتایا کہ میں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین لی اور اپنی پسند کے مطابق اپنا گھر بنایا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ بچے اُس وقت چھوٹے تھے تو میں نے یہ گھر ان کے نام کردیا کہ چاہے گھر میرے نام ہو یا بچوں کے نام، ایک ہی بات ہے، انہوں نے نہایت دکھ میں بتایا کہ جب بچے بڑے ہوگئے اور ان کی شادی کرائی تو وہ گھر میں سے حصہ مانگنے لگے۔
انھوں نے مزید کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت مختلف ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کردینا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کا دکھ مجھے ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں لیکن اگر گھر میرے ہی نام رہتا تو صورت حال مزید بہتراور کچھ مختلف ہوتی۔
ترنم ناز کو پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے، وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں سے کافی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔
انھیں کلاسیکل موسیقی میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے پرایڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔