حفیظ اور امجد آئینی حیثیت اور این ایف سی معاملے پر انتخابی نورا کشتی میں مصروف ہیں، تحریک انصاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی تاج نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر این ایف سی شیئر اور صوبائی حیثیت جیسے سنگین اور بنیادی آئینی معاملات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا تماشہ دیکھنے پر مجبور ہیں۔ دونوں شخصیات ان حساس قومی مسائل کو عوامی مفاد کے بجائے انتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات و سابق ترجمان وزیر اعلیٰ علی تاج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حفیظ الرحمن اور امجد حسین ایڈووکیٹ این ایف سی معاملے پر انتخابی نورا کشی میں مصرف ہیں۔ حفیظ الرحمن اور امجد حسین ایڈووکیٹ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی تاج نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر این ایف سی شیئر اور صوبائی حیثیت جیسے سنگین اور بنیادی آئینی معاملات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا تماشہ دیکھنے پر مجبور ہیں۔ دونوں شخصیات ان حساس قومی مسائل کو عوامی مفاد کے بجائے انتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال تک یہی عناصر گلگت بلتستان میں اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ اس دوران نہ حفیظ صاحب کو این ایف سی شیئر یاد آیا اور نہ ہی امجد ایڈووکیٹ نے صوبائی حیثیت کے لیے کوئی سنجیدہ یا مؤثر آواز بلند کی۔ آج جب الیکشن سر پر ہیں تو ایک این ایف سی کا منجھن بیچ رہا ہے اور دوسرا صوبے کا شوربہ پکا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
علی تاج نے واضح کیا کہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے این ایف سی شیئر اور صوبائی حیثیت سے متعلق تمام عملی جدوجہد، تیاری اور پیش رفت سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ مارچ 2022ء میں ان کی مخلص اور سنجیدہ کاوشوں کے نتیجے میں صوبائی حیثیت سے متعلق آئینی ترمیم آنے والی تھی، جس کے بعد این ایف سی شیئر خود بخود گلگت بلتستان کا آئینی حق بن جاتا۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی باہمی سازش کے تحت وفاق میں منتخب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت گرائی گئی، جس کا سب سے بڑا نقصان گلگت بلتستان کو اٹھانا پڑا۔ اس سازش نے نہ صرف صوبائی حیثیت کے عمل کو روک دیا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق کو بھی یرغمال بنا دیا۔ حفیظ کی ایک مضحکہ خیز فرمائش پر ردعمل دیتے ہوئے علی تاج نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید ایک غیرت مند، اصولی اور باوقار سیاسی لیڈر ہیں، جو چند کوٹہ سیٹوں کی بھیک مانگنے کے قائل نہیں تھے۔
علی تاج کا کہنا تھا کہ انہوں نے نمائشی دعووں کے بجائے گلگت بلتستان کے مستقل اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہی کی قیادت میں گلگت بلتستان کا پہلا میڈیکل کالج منظور ہوا۔ اگر ان کی حکومت کو سازش کے تحت نہ گرایا جاتا تو آج گلگت میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا تیسرا بیچ داخلہ لے چکا ہوتا اور 400 سے زائد طلبہ و طالبات اپنے ہی خطے میں ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کر رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حفیظ صاحب اور امجد ایڈووکیٹ کی سرپرستی میں گلگت بلتستان میں کی گئی رجیم چینج نے نہ صرف ایک عوامی حکومت کا خاتمہ کیا بلکہ سینکڑوں طلبہ کے روشن مستقبل کو بھی سبوتاژ کر دیا۔ آخر میں علی تاج نے کہا کہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب اس سیاسی فریب کو بخوبی سمجھ چکے ہیں اور وقت آنے پر ان عناصر کو بھرپور اور جمہوری جواب ووٹ کے ذریعے دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ گلگت بلتستان کے علی تاج نے کہا کہ ایف سی شیئر صوبائی حیثیت تحریک انصاف انہوں نے اور امجد کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔