سانحہ گل پلازا: این اِی ڈی یونیورسٹی کی ٹیکنیکل ٹیم کا جائے وقوعہ کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سانحہ گل پلازا کی تحقیقات کے لیے این اِی ڈی یونیورسٹی کی ٹیکنیکل ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے مختلف مقامات کا جائزہ لیا۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تحقیقاتی ٹیکنیکل اور فرانزک ٹیم کو معائنہ کروایا۔
اس موقع پر اربن سرچنگ ٹیم نے بتایا کہ جہاں سرچنگ کا عمل مکمل کیا جارہا ہے وہاں مارکنگ کی جا رہی ہے، گل پلازا کے مختلف مقامات پر ’ایچ‘ کا نشان مارک کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
اربن سرچنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ ایچ نشان کا مطلب خطرے کی نشاندہی اور عمارت گرنے کا خدشہ ہے۔
انچارج سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ نے کہا کہ سانحہ گل پلازا میں انسانی باقیات موصول ہوئی ہیں، افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔