پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد ہمایوں خان سے سینیٹر روبینہ خالد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سٹی 42 : پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد ہمایوں خان سے سینیٹر روبینہ خالد کی ملاقات ہوئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد ہمایوں خان سے چیئرپرسن بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام، سینیٹر روبینہ خالد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر رکنِ صوبائی اسمبلی اشبر جدون، پارٹی رہنما قاضی مسرت اور شہناز شمشیر بھی موجود تھیں۔
ملاقات میں ملکی و صوبائی سیاسی صورتحال، پارٹی امور اور تنظیمی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاو ہ خواتین ونگ کو مزید منظم اور متحرک کرنے کے حوالے سے حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
شکر گڑھ؛ نارووال روڈ پر خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 افراد جاں بحق
سیکرٹری جنرل محمد ہمایوں خان نے چیئرپرسن بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی بہترین کارکردگی اور عوامی فلاح کے لیے ان کی خدمات کو سراہا، کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب اور مستحق طبقات کے لیے ایک مؤثر اور انقلابی منصوبہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیکرٹری جنرل محمد ہمایوں خان سینیٹر روبینہ خالد
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔