کاش اپنا گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا؛ مرتے دم تک رنج رہے گا؛ گلوکارہ ترنم ناز
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
نہایت سینیئر اور معروف غزل گو کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے اپنے زندگی کے سب سے بڑے دکھ سے مداحوں کو آگاہ کردیا۔
لیجنڈری کلاسیکل گلوکاراؤں میں سے ایک ترنم ناز نے حال ہی میں ٹیلی وژن پر ایک شو میں شرکت کی اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔
ایک سوال کے جواب میں ترنم ناز نے بتایا کہ میں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین لی اور پھر اپنی پسند کے مطابق بہت دل سے اپنا گھر بنایا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بچے اُس وقت چھوٹے تھے تو میں نے یہ گھر ان کے نام کردیا کہ چاہے میرے نام ہو یا بچوں کے، ایک ہی بات ہے۔
ترنم ناز نے دکھ بھرے انداز میں بتایا کہ جب بچے بڑے ہوگئے اور ان کی شادی کرائی تو وہ گھر میں سے حصہ مانگنے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت تب مختلف ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں۔
گلوکارہ ترنم ناز نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کردینا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کا رنج تاحیات رہے گا۔
ترنم ناز نے مزید کہا کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں لیکن اگر گھر میرے ہی نام رہتا تو صورت حال مزید بہتر اور مختلف ہوتی۔
یاد رہے کہ ترنم ناز کو پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں سے کافی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔
انھیں کلاسیکل موسیقی میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔