City 42:
2026-07-24@07:57:08 GMT

حافظ حمد اللہ نے 8فروری کو ’یوم سیاہ ‘منانے کا اعلان کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

سٹی 42 : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں اور سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا موقف سننا چاہیے، تاہم عملی مذاکرات کا ماحول نظر نہیں آ رہا۔ 

نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کے دوران حافظ حمد اللہ نے کہا کہ حکومت کو ایسا ماحول بنانا چاہیے تھا جو جمہوری مفاہمت کو فروغ دے۔ پارلیمنٹ کے اندر تصادم کے بجائے مفاہمت کا ماحول ہونا چاہیے تھا، لیکن موجودہ حکومت ووٹ کے بجائے طاقت کے بل پر قائم ہے اور اہم فیصلے پارلیمنٹ سے باہر طے ہو کر صرف منظوری کے لیے لائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حکومت کے پاس بامعنی مذاکرات کا اختیار موجود نہیں۔  

بلوچستان; تعلیمی اداروں میں آٹھویں جماعت کے امتحانات ملتوی، نیا شیڈول جاری

حافظ حمد اللہ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مذاکرات کی باتیں عوام کو ورغلانے کے مترادف ہیں کیونکہ حکومت کا اختیار بانی تحریک انصاف سے ملاقات یا انصاف دلانے تک محدود نہیں، اصل اختیار کہیں اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کو جمعیت علمائے اسلام مسترد کر چکی ہے اور یہ جعلی پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں۔ 8 فروری کو یوم سیاہ منانے پر غور کیا جا رہا ہے اور احتجاج کی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔ 

امریکہ،برفانی طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی دی، درجہ حرارت منفی 48

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم میں سب سے زیادہ قربانیاں جمعیت علمائے اسلام نے دی ہیں، لانگ مارچ، مہنگائی مارچ اور آزادی مارچ میں جے یو آئی کا سو فیصد کردار رہا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ اصولی بات چیت ہوئی مگر قیادت کی جانب سے جواب نہ آیا۔ اختلافات کے باوجود احتجاج عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: حافظ حمد اللہ نے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان