سردیوں میں پیاس نہ لگنے کی وجہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سردیوں کا موسم آتے ہی ہماری یہ عادت ختم ہو جاتی ہے اور ہم پانی کی اس بوتل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ہم کسی گرم کمبل میں لپٹ کر چائے یا کافی پینا پسند کرتے ہیں اور پانی کو یکسر فراموش کر جاتے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بھی جسم کو پانی کی ضرورت کم نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات مزید بڑھ جاتی ہے۔سردی کے موسم میں چونکہ ہمیں پسینہ نہیں آتا اس لیے ہمیں یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت نہیں ہے۔ خاص طور پر ہمارے بزرگ اور باہر کام کرنے والے افراد سُستی کے سبب کم پانی پیتے ہیں کہ زیادہ پینے کے سبب بیت الخلا زیادہ جانا پڑے گا۔سردیوں میں جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بات سائنس سے بھی ثابت ہے: سردیوں میں گردے پیشاب کے ذریعے زیادہ پانی نکالتے ہیں۔ دفاتر اور گھروں میں چلنے والے ہیٹرز یا ڈرائرز کے سبب جِلد اور سانس کے ذریعے جسم کا پانی نکلتا رہا ہے۔ گرم کپڑے پہننے کے سبب آنے والا پسینہ شاید ہمیں نظر نہ آتا ہو لیکن وہ بھی جسم میں پانی کو کم کرتا ہے۔ اس کے سبب آپ کو ڈی ہائیڈریشن بھی ہو سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق جسم کو پانی سے محروم رکھنے سے گردوں کی بیماری، پتھری یا پیشاب کا انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔ جب جسم سے پانی کم ہوتا ہے تو خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دِل کے لیے اسے پمپ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے باعث بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پانی کی کمی کے سبب نظامِ ہاضمہ بھی سست روی کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے سبب قبض یا بدہضمی کی شکایات ہو سکتی ہیں۔ پانی کی کمی کے سبب تھکاوٹ، سر درد، بوجھل پن یا اضطراب کی علامات بھی جسم میں جنم لے سکتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ ڈی ہائیڈریشن ہے۔ ڈی ہائیڈریشن کے سبب کولیسٹرول کی سطح بھی بڑھ سکتی ہےلہازا ۔سردیوں میں بھی 10 سے 12 گلاس پانی لازمی پینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسم کو پانی سردیوں میں پانی کی ہے اور کے سبب
پڑھیں:
ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
سٹی 42 : سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔
ہیڈ مرالہ میں مجموعی پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 857 کیوسک، ہے ۔دریائے چناب میں اخراج 1 لاکھ 80 ہزار 356 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔
جموں توی میں 11 ہزار 868 کیوسک جبکہ مناور توی میں 5 ہزار 747 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا ۔ دریائے چناب میں بہاؤ 1 لاکھ 74 ہزار 441 کیوسک ہے ۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی