بھارت نے روسی تیل کی خریداری کم کردی ہے‘امریکی حکام
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (آن لائن)امریکی ٹیرف پابندیوں کے باعث بھارت کی منافقانہ پالیسیز اور نام نہادخود مختار خارجہ پالیسی بے نقاب‘نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی کا دعویدار بھارت عالمی سفارتی تنہائی اوربڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا شکارہوگئی۔عالمی فورمز پر غیر جانبداری کا دعوی کرنے والا بھارت امریکی معاشی پابندیوں کے سامنے مکمل سرنگوں ہو چکا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیرف پابندی کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری کم کردی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریفائنریوں کی روسی تیل کی درآمد میں کمی امریکی پالیسی کی کامیابی ہے، بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عاید کرنے کے مثبت نتائج منظر عام پر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور پابندیوں پر عمل درآمد نے بھارت کے وشو گرو بننے کے خواب کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بھارت کا نام نہاد خود مختاری کا بیانیہ امریکی پابندیوں کے سامنے زمیں بوس ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔