Jasarat News:
2026-06-03@03:38:30 GMT

شعبان، شب ِ برات اور تقدیر

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شعبان کا مہینہ آتے ہی ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص مذہبی تصور گردش کرنے لگتا ہے کہ اس مہینے، خصوصاً پندرہویں رات کو قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں، رزق تقسیم کیا جاتا ہے اور آئندہ سال مرنے والوں کے نام لکھ دیے جاتے ہیں۔ یہ بیانیہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ کم ہی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کی بنیاد قرآن و حدیث میں کہاں ہے۔

قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ سورۂ الدخان میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے‘‘۔ مفسرین ِ امت، جن میں امام طبری، امام قرطبی اور امام ابن کثیر شامل ہیں، متفق ہیں کہ اس آیت میں جس رات کا ذکر ہے وہ لیلۃُ القدر ہے جو رمضان میں واقع ہوتی ہے، نہ کہ شعبان میں۔ لہٰذا شعبان میں تقدیر کے فیصلے ہونے کا تصور قرآنی نص کے خلاف ہے۔ البتہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں ایک حدیث ضرور ملتی ہے جس میں مغفرتِ عامہ کا ذکر ہے۔ اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق پر نظر فرماتا ہے اور سب کو معاف کر دیتا ہے، سوائے مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والے کے۔ اگرچہ یہ حدیث ایک ایک سند سے ضعیف ہے، لیکن متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس رات میں اللہ کی رحمت کا خصوصی پہلو موجود ہے۔ تاہم یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کسی رات کی فضیلت کا ثابت ہونا اور اس رات کو مخصوص عبادات، اجتماعی نمازوں، چراغاں یا آتش بازی کا دن بنا لینا۔ یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔ نبی کریمؐ، صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سے نصف شعبان کے لیے کسی خاص عبادت کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے بعد میں رائج ہونے والی یہ سب صورتیں دینی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جس میں نصف شعبان میں رزق، موت اور حیات کے فیصلوں کا ذکر ہے، محدثین نے اسے سختی سے رد کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے اسے منکر، امام نووی نے باطل اور امام ابن الجوزی نے موضوع کے قریب قرار دیا ہے۔ یعنی اس تصور کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شعبان رمضان کی تمہید ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور نفرت سے پاک کریں، توبہ و استغفار کو معمول بنائیں اور رمضان کے استقبال کی عملی تیاری کریں۔ دین ہمیں جذبات نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ عبادت کرنا سکھاتا ہے۔ عقیدہ جتنا مضبوط ہو، تحقیق اتنی ہی ضروری ہو جاتی ہے۔ شعبان کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم روایت کے بجائے تحقیق کو اختیار کریں اور عبادت کو رسم نہیں شعور بنائیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو تحقیق سے نہیں بلکہ روایت سے اخذ کیا ہے۔ اگر نصف شعبان کی رات ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ دلوں کو کینے سے پاک کیا جائے، توبہ کی جائے اور رمضان کے استقبال کی عملی تیاری کی جائے۔ یہی وہ روح ہے جو نبیؐ کے اسوہ سے ہم تک پہنچتی ہے۔ اگر ہم شعبان میں ہی تقدیر بدلنے کے دعوے کر کے مطمئن ہو جائیں تو رمضان کی اصل روح جو تربیت، نظم، صبر اور اجتماعی انقلاب کی روح ہے پس منظر میں چلی جاتی ہے۔دین کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ ہمیں سچائی کے ساتھ عبادت کرنا سکھاتا ہے، نہ کہ عقیدت کے نام پر ہر روایت قبول کر لینے کی اجازت دیتا ہے۔

افشاں نوید سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اس رات

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی