Jasarat News:
2026-07-24@07:08:22 GMT

شعبان، شب ِ برات اور تقدیر

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شعبان کا مہینہ آتے ہی ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص مذہبی تصور گردش کرنے لگتا ہے کہ اس مہینے، خصوصاً پندرہویں رات کو قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں، رزق تقسیم کیا جاتا ہے اور آئندہ سال مرنے والوں کے نام لکھ دیے جاتے ہیں۔ یہ بیانیہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ کم ہی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کی بنیاد قرآن و حدیث میں کہاں ہے۔

قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ سورۂ الدخان میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے‘‘۔ مفسرین ِ امت، جن میں امام طبری، امام قرطبی اور امام ابن کثیر شامل ہیں، متفق ہیں کہ اس آیت میں جس رات کا ذکر ہے وہ لیلۃُ القدر ہے جو رمضان میں واقع ہوتی ہے، نہ کہ شعبان میں۔ لہٰذا شعبان میں تقدیر کے فیصلے ہونے کا تصور قرآنی نص کے خلاف ہے۔ البتہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں ایک حدیث ضرور ملتی ہے جس میں مغفرتِ عامہ کا ذکر ہے۔ اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق پر نظر فرماتا ہے اور سب کو معاف کر دیتا ہے، سوائے مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والے کے۔ اگرچہ یہ حدیث ایک ایک سند سے ضعیف ہے، لیکن متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس رات میں اللہ کی رحمت کا خصوصی پہلو موجود ہے۔ تاہم یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کسی رات کی فضیلت کا ثابت ہونا اور اس رات کو مخصوص عبادات، اجتماعی نمازوں، چراغاں یا آتش بازی کا دن بنا لینا۔ یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔ نبی کریمؐ، صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سے نصف شعبان کے لیے کسی خاص عبادت کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے بعد میں رائج ہونے والی یہ سب صورتیں دینی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جس میں نصف شعبان میں رزق، موت اور حیات کے فیصلوں کا ذکر ہے، محدثین نے اسے سختی سے رد کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے اسے منکر، امام نووی نے باطل اور امام ابن الجوزی نے موضوع کے قریب قرار دیا ہے۔ یعنی اس تصور کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شعبان رمضان کی تمہید ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور نفرت سے پاک کریں، توبہ و استغفار کو معمول بنائیں اور رمضان کے استقبال کی عملی تیاری کریں۔ دین ہمیں جذبات نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ عبادت کرنا سکھاتا ہے۔ عقیدہ جتنا مضبوط ہو، تحقیق اتنی ہی ضروری ہو جاتی ہے۔ شعبان کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم روایت کے بجائے تحقیق کو اختیار کریں اور عبادت کو رسم نہیں شعور بنائیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو تحقیق سے نہیں بلکہ روایت سے اخذ کیا ہے۔ اگر نصف شعبان کی رات ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ دلوں کو کینے سے پاک کیا جائے، توبہ کی جائے اور رمضان کے استقبال کی عملی تیاری کی جائے۔ یہی وہ روح ہے جو نبیؐ کے اسوہ سے ہم تک پہنچتی ہے۔ اگر ہم شعبان میں ہی تقدیر بدلنے کے دعوے کر کے مطمئن ہو جائیں تو رمضان کی اصل روح جو تربیت، نظم، صبر اور اجتماعی انقلاب کی روح ہے پس منظر میں چلی جاتی ہے۔دین کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ ہمیں سچائی کے ساتھ عبادت کرنا سکھاتا ہے، نہ کہ عقیدت کے نام پر ہر روایت قبول کر لینے کی اجازت دیتا ہے۔

افشاں نوید سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اس رات

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف