WE News:
2026-07-24@06:31:10 GMT

کیا عمران خان خود غرض ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

کیا عمران خان خود غرض ہیں؟

پاکستان ویسے تو معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی نازک موڑ سے گزر رہا ہے، لیکن اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس نازک موڑ پر ناصرف چڑھائی بھی شامل ہو گئی ہے، بلکہ راستہ بھی ناہموار ہو گیا ہے۔ جس پر چلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

سمجھنے والے ناسمجھ سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ حالات کی وجہ وہ عدم استحکام ہے جو خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ جس میں مزید اضافہ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد ہوا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی حکومت ہے، تاہم اس عدم استحکام کی ایک وجہ واسطہ یا بلا واسطہ طور پر عمران خان بھی ہیں، جو کسی بھی قسم کی ڈیل کے لیے رضا مند نہیں ہیں۔ جنہیں باخوبی اندازہ ہے کہ اس ملک میں اقتدار تک پہنچنے کے لیے شادٹ کٹ کہاں سے اور کیسے لگایا جاتا ہے۔

عمران خان دراصل کسی کی قید میں نہیں، بلکہ وہ اپنی ذات کے قیدی ہیں۔ وہ اس تشخص کے قیدی ہے جو تاریخ میں اپنے آپ کو بطور لیڈر اپنے آپ کو یاد رکھوانا چاہتے ہیں اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے دو قدم پیچھے ہٹنے سے نہ صرف انہیں ریلیف ملے گا بلکہ ملک میں قائم عدم استحکام میں بھی کمی آئے گی۔

اگر قوم کے کروڑوں لوگوں کو عمران خان میں ایک مسیحہ نظر آتا ہے تو پھر خان ان کروڑوں چاہنے والوں کی خاطر دو قدم پیچھے ہٹ کر اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کیوں نہیں کر لیتے، جن کے کندھوں پر بیٹھ کر ہی عمران خان 2018 میں اقتدار میں آئے تھے۔

کیوں جیل میں بیٹھ کر یہ گانا گنگناتے رہتے ہیں کہ ’کبھی تم کو بھی ہم سے پیار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘۔ کیوں نہیں وہ اپنی لیڈری کو سائیڈ پر رکھ کو اس ملک کی 25 کروڑ عوام کے بارے میں سوچتے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی مقبولیت اس وقت عروج پر ہے اس کے باوجود کہ خان کی قبولیت اس وقت نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن درحقیقت عمران خان کی مقبولیت ہی ان کی قبولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، لیکن عمران خان اس مقبولیت کی خاطر ہی دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنی قبولیت کے لیے راستہ بنا سکتے ہیں اور ویسے بھی ان کے لیے کون سا یہ مشکل کام ہے، ماضی میں عمران خان قبولیت کرنے والوں کی خاطر 126 دنوں تک ڈی چوک میں بھی تو بیٹھے رہے تھے۔

پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو عمران خان کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو سے کرتے ہیں، لیکن ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بھٹو کو بے شک 1970 کے انتخابات کے آس پاس مقبولیت اور قبولیت حاصل تھی لیکن 5 جولائی 1977 کے ضیاالحق کے مارشل لا کے بعد بھٹو کے پاس قبولیت تو درکنار ماضی جیسی مقبولیت بھی باقی نہیں بچی تھی، اور ایسی صورت میں بھٹو کے لیے یہی فیصلہ بہتر تھا کہ وہ تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے فوج کے ہاتھوں مرنا قبول کریں۔

کیسی بد قسمتی ہے کہ اس دور میں بھٹو کی پھانسی کا مطالبہ کرنے والوں کی اکثریت آج عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کاش کہ ایوب دور میں چڈیاں پہن کر بھنگڑے ڈالنے والی یہ جنریشن بھٹو کو بھی ایک آمر سے بچانے کے لیے آواز اٹھاتی تو آج انہیں شائد عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی ضرورے ہی پیش نہ آتی۔

ملک کی موجودہ صورت حال میں دیکھا جائے تو خان کے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے سے ملک میں اگر استحکام آتا ہے اور ایک عام آدمی کی زندگی میں بہتری آتی ہے تو اس کا سہرا بھی عمران خان کو ہی جائے گا۔

لیکن پتا نہیں کیوں عمران خان بضد ہیں کہ وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ عمران خان کسی حد تک خود غرض ہیں جو بس یہ چاہتے ہیں کہ وہ تاریخ میں ایک لیڈر کے طور پر یاد رکھے جائیں، قوم کا کیا ہے، وہ تو پچھلے 79 سالوں سے نازک موڑ سے ہی گزر رہی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نوید نسیم

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان کی کے بعد ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو