چین سے پاکستان کے لیے امدادی سامان کی چوتھی کھیپ کراچی پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
چین کی جانب سے پاکستان کے لیے امدادی سامان کی چوتھی کھیپ بذریعہ بحری جہاز کراچی پہنچ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چین کی جانب سے بھیجی گئی حالیہ امدادی کھیپ میں 1000 سلیپنگ بیگز،14ہزار خیمے اور 12 ہزار کمبل شامل ہیں۔
امدادی سامان کو ٹرکوں کے ذریعے این ڈی ایم اے کے کراچی ویئرہاوس پہنچا دیا گیا ہے۔
اس سے قبل 26 دسمبر 2025 کو چین کی جانب سے آنے والی تیسری امدادی کھیپ میں 100 کشتیاں، 5 ہزارخیمے اور 8 ہزارکمبل شامل تھے۔
4 اکتوبر 2025 کو آنے والی دوسری کھیپ میں 16ہزار کمبل،700 خیمے، 1000 لائیف جیکٹ اور4ہزارسلیپنگ بیگ شامل تھے۔
28 ستمبر 2025 کو آنے والی پہلی امدادی کھیپ میں 9ہزارکمبل اور 300 خیمے شامل تھے جبکہ
چین سے 4امدادی کھیپوں میں مجموعی طور پر45ہزار کمبل، 20ہزارخیمے،100 کشتیاں،ایک ہزارلائیف جیکٹ اور 5ہزار سلیپنگ بیگز موصول ہو چکے ہیں۔
این ڈی ا یم اے اپنے تمام تر وسائل آفات کے متاثرین کے لیے باہم میسر رکھتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ضرورت کے مطابق امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امدادی کھیپ کھیپ میں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔