پی ایم ایس فیز ون کے تحریری امتحان کامیابی سے مکمل
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
قیصر کھوکھر : پی ایم ایس فیز ون کے تحریری امتحان کامیابی سے مکمل، لاہور سمیت پنجاب کی 7 ڈویژنز میں امتحان، 37 ہزار سے زائد اُمیدواروں کی شرکت،ممبران پی پی ایس سی نے صوبہ بھر میں قائم امتحانی مراکز میں انتظامات کا جائزہ لیا۔
ترجمان پی پی ایس سی ڈپٹی ڈائریکٹر سید کاظم مقدس کے مطابق پنجاب پبلک سروس کمیشن کا پی ایم ایس فیز ون کا تحریری امتحان کامیابی سے ہوا۔ امتحان میں 37 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی۔ لاہور سمیت پنجاب کی 7 ڈویژنز میں امتحان لیا گیا۔ ڈائریکٹرز پنجاب پبلک سروس کمیشن نے ہر ڈویژن میں انتظامات کو یقینی بنایا۔ ڈائریکٹرز پنجاب پبلک سروس کمیشن نے ممبران پی پی ایس سی اور سیکرٹری افضال احمد کو انتظامات بارے بریفنگ دی۔ ممبران اور سیکرٹری پی پی ایس سی کی جانب سے انتظامات پر اظہار اطمینان کیا گیا۔ممبر بی پی ایس سی ڈاکٹر ارشاد ممبر نے لاہور میں قائم امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔ممبر بی پی ایس سی احمد علی کمبوہ، عامر یاسین ،حسن اقبال،صدیق شیخ،صالح طاہر،اور حبیب الرحمن گیلانی نے ڈویژنز میں امتحان کا دورہ اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ چیئرمین پی پی ایس سی اور سیکرٹری پی پی ایس سی نے بھی امتحانی مراکز کے سرپرائز دورے کیے ۔
اولڈ ایسوسی ایٹس آف کنیرڈ سوسائٹی کے زیرِاہتمام کنیرڈ کالج میں ایمپاور ہر فیسٹیول
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور لاہور لاہور پی پی ایس سی امتحان کا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔