جب بھی کوئی مشکل آتی ہے اللہ سے براہ راست رجوع کرتی ہوں، مہوش حیات
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
نامور پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے کہا ہے کہ انہیں جب بھی کوئی مشکل آتی ہے تو اللہ سے براہ راست رجوع کرتی ہوں۔
38 سالہ اداکارہ مہوش حیات نے حال ہی میں مشکلات اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طور طریقوں پرکھل کر گفتگو کی۔
اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا بے حد اہم ہے اور وہ ان پر جب بھی کوئی مشکل آتی ہے تو وہ اللہ سے براہ راست رجوع کرتی ہیں۔
View this post on Instagramانہوں نے وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست بات کرنا اور اس پر مکمل بھروسا رکھنا انسان کو ذہنی وضاحت، باطنی طاقت اور دل کا سکون عطا کرتا ہے۔
مہوش حیات کا کہنا تھا کہ یہ عمل انسان کو صبر اور اعتماد کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے جذباتی مضبوطی اور روحانی نشوونما ہوتی ہے۔
View this post on Instagramپاکستانی اداکارہ نے کہا کہ ان کا یہ نقطۂ نظر روزمرہ زندگی میں توازن اور سکون برقرار رکھنے کے لیے ایمان اور دل سے کی گئی دعا کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا یہ نقطہ نظر دوسروں کو بھی روحانیت اور اعلیٰ طاقت پر یقین کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔