مری میں ایک بار پھر گہرے بادل داخل، خون جما دینے والی سردی کا راج
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ملکہ کوہسار مری میں ایک دفعہ پھر سے گہرے بادلوں کی انٹری ہو گئی، وادی میں خون جما دینے والی سردی کا بھی راج ہے۔
محکمۂ موسمیات نے آج سے مری میں برفباری کے نئے اسپیل کا امکان بھی ظاہر کر دیا ہے۔
ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر کے مطابق آج شام سے کل شام تک مری میں شدید برفباری کا امکان ہے، سیاح اور شہری رات کے وقت مری کا سفر کرنے سے مکمل گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ درجۂ حرارت گرنے سے سڑکوں پر برف شیشے جیسی سخت تہہ بن سکتی ہے، ٹائروں پر ’اسنوچین‘ کے بغیر کسی گاڑی کو مری میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ دھند اور برفباری میں فوگ لائٹس اور ہیزرڈ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں۔
انصار عباسیاسلام آباد … دو روز قبل ایک طویل.
ڈاکٹر رضا تنویر کا کہنا تھا کہ مری روانگی سے قبل گاڑی کا فیول ٹینک فل رکھیں، مکینیکل فٹنس چیک کرلیں۔ بریک، وائپرز، ہیٹر اور ڈی فوگر کا درست ہونا یقینی بنائیں، مری میں برف والی سڑکوں پر رفتار کم اور اگلی گاڑی سے 50 میٹر دور رہیں۔
ڈی پی او مری نے کہا کہ گاڑی میں ہیٹر چلے تو شیشے کھلے رکھیں، آکسیجن کی کمی جانی نقصان کرسکتی ہے، شاہراہوں یا ڈھلوانوں پر گاڑی پارک نہ کریں تاکہ برف ہٹانے میں رکاوٹ نہ ہو، چیک پوسٹوں پر تعینات پولیس کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
قلات، زیارت، کوژک ٹاپ، شیلا باغ، کان مہتر زئی میں پھر سے برفباری شروعقلات، زیارت، کوژک ٹاپ، شیلا باغ، کان مہتر زئی میں پھر سے برفباری شروع ہو گئی ہے۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے این 50 کے بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے، ہیوی مشینری سے برف ہٹانے کام جاری ہے۔
بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ممکنہ بارش اور برفباری کا الرٹ جاریاین ڈی ایم اے نے کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں ممکنہ بارش اور برفباری کا الرٹ جاری کر دیا۔
12 گھنٹوں میں کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مزید بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے۔
دیامر، بابو سر ٹاپ، بٹوگاہ ٹاپ پر برفباری، نظام زندگی متاثردیامر، بابو سر ٹاپ، بٹوگاہ ٹاپ پر وقفے وقفے سے برفباری سے نظام زندگی متاثر ہو گیا ہے، بالائی وادیوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ نانگاپربت اور بابوسر ٹاپ پر 10 فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے۔
این ایچ اے کے حکام کے مطابق کوئٹہ کی مختلف شاہراہوں پر برفباری کے بعد برف ہٹانے اور نمک کے چھڑکاؤ کا کام جاری ہے، برفباری کے دوران اور بعد مین شاہراہوں پر ٹریفک بحال رکھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہو گئی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔