سہیل سلطان کی نااہلی درخواست، عدالت نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سوات سے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر وفاقی آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن کو تاحکم ثانی کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، بیرسٹر گوہر، سہیل سلطان کی طرف سے وفاقی آئینی عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب انتخابات ہوجائیں تو آرٹیکل 199 کے تحت رٹ دائر ہوسکتی ہے، اسپیکر کو ریفرنس بھیجنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ نواز شریف کیس میں بھی سپریم کورٹ یہ اصول طے کر چکی ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تاحکم ثانی کارروائی سے روک دیا۔
واضح رہے کہ سہیل سلطان پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بننے کے بعد دو سال کی پابندی پوری نہ کرنے کا الزام تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل سلطان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔