پنجگور میں 3 دہشت گرد ہلاک،بنوں شہر کو بڑے سانحے سے بچالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (صباح نیوز+ مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ بنوں میں عیدگاہ روڈ پر پولیس نے کارروائی کرتے 3کلو گرام وزنی ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم برآمد ناکارہ بنادیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پنجگور میں آپریشن کیا جہاں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں دہشتگرد کمانڈر فاروق، عدیل اور وسیم شامل ہیں، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد کو ہلاک کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔علاوہ ازیں بنوں میں تھانہ ڈومیل کی حدود میں عیدگاہ روڈ پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے ممکنہ سانحے کو ناکام بنا دیا۔ بنوں میں پولیس کو اطلاع ملی کہ عیدگاہ کی دیوار کے ساتھ ایک مشکوک شے پڑی ہوئی ہے جس پر فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا۔ تلاشی کے دوران تقریباً 3 کلو گرام وزنی ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم برآمد ہوا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ آئی ای ڈی کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا جس کے باعث کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا جبکہ مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کارروائی کرتے پنجگور میں کرتے ہوئے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔