Express News:
2026-06-02@23:55:42 GMT

چائے زیادہ پینے سے صحت پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

چائے ہمارے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہے۔ صبح کی شروعات ہو یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ، ایک کپ چائے اکثر لازمی سمجھی جاتی ہے۔ مگر ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ چائے پینا فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

آیئے جانتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ چائے نوشی جسم پر کیسے اثر ڈالتی ہے اور کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

چائے میں موجود کیفین کیا اثر ڈالتی ہے؟

چائے میں کیفین پائی جاتی ہے جو وقتی طور پر تازگی اور چستی تو دیتی ہے، مگر زیادہ مقدار میں یہ بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور گھبراہٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ کچھ افراد میں سر درد یا چکر آنے کی شکایت بھی سامنے آ سکتی ہے، خاص طور پر جب دن بھر میں کئی کپ چائے پی لی جائے۔

نیند متاثر ہونے کا خطرہ

زیادہ چائے پینے سے نیند کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ شام یا رات کے وقت چائے پینے کی عادت رکھنے والے افراد کو سونے میں دقت، بار بار آنکھ کھلنے یا بے خوابی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیفین جسم میں کئی گھنٹے تک اثر دکھاتی ہے، اس لیے رات گئے چائے سے پرہیز بہتر ہوتا ہے۔

معدے اور تیزابیت کے مسائل

کچھ لوگوں میں زیادہ چائے پینے سے معدے میں جلن، تیزابیت اور بدہضمی کی شکایت ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر خالی پیٹ چائے پینا معدے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ معدے میں تیزاب کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔

آئرن جذب ہونے میں رکاوٹ

چائے میں موجود ٹیننز نامی اجزاء جسم میں آئرن کے جذب کو کم کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے کے فوراً بعد چائے پینے سے خون کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر خواتین اور کمزور افراد میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

ہڈیوں پر ممکنہ اثرات

زیادہ مقدار میں کیفین لینے سے بعض تحقیق کے مطابق جسم سے کیلشیم کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو طویل مدت میں ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ اعتدال میں چائے پینا عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

دانتوں پر داغ اور منہ کی صحت

چائے میں موجود قدرتی رنگ دانتوں پر داغ ڈال سکتے ہیں، جس سے دانت پیلے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت گرم چائے پینے کی عادت مسوڑھوں کو حساس بھی بنا سکتی ہے۔

روزانہ کتنی چائے مناسب ہے؟

ماہرینِ غذائیت کے مطابق زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے دن میں دو سے تین کپ چائے مناسب سمجھی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ مقدار لینے کی صورت میں جسمانی ردِعمل پر نظر رکھنا ضروری ہے، اور اگر بار بار بے چینی، بدہضمی یا نیند کی خرابی محسوس ہو تو چائے کی مقدار کم کر دینی چاہیے۔

چائے پینے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟

چائے کو متوازن انداز میں پینا ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ کوشش کریں کہ خالی پیٹ چائے نہ پیئیں، رات کے وقت کیفین والی چائے سے پرہیز کریں اور دودھ و چینی کی مقدار بھی محدود رکھیں۔ سبز چائے یا ہربل ٹی کو کبھی کبھار متبادل کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔

چائے اگر اعتدال میں پی جائے تو لطف اور تازگی کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر حد سے زیادہ استعمال نیند کی خرابی، معدے کے مسائل، آئرن کی کمی اور بے چینی جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ بہتر صحت کے لیے چائے نوشی میں توازن رکھنا ہی دانش مندی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زیادہ چائے ہو سکتا ہے چائے پینے سے زیادہ چائے میں جاتی ہے سکتی ہے پینے سے کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ