گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑا حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
راولپنڈی کی عدالت نے گلی محلوں میں سبزی، پھل اور دیگر اشیا فروخت کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی، اور خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات درج کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: ریڑھی بانوں کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر کا بے جا استعمال، شہری نے کارروائی کا مطالبہ کردیا
مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج مقصود قریشی کی عدالت میں ہوئی، جہاں سینیئر وکیل انوار ڈار کی جانب سے دائر درخواست پر غور کیا گیا۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ گلی محلوں میں اشیا کی فروخت کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیاکہ صبح سویرے سے رات گئے تک ہاکرز لاؤڈ اسپیکر پر اپنی اشیا فروخت کرتے ہیں، جس سے رہائشی علاقوں میں شور اور نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت پہلے ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا چکی ہے، تاہم خلاف ورزی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: سارا دن ٹھیلا چلا کر شام کو 500 کا منہ دیکھتا ہوں، 12 ہزار کا بل کیسے دوں؟ پاکستانی ریڑھی بان کا شکوہ
ایڈیشنل سیشن جج نے کہاکہ شہری علاقوں میں گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دکانداری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اشیا کی فروخت راولپنڈی عدالت لاؤڈ اسپیکر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اشیا کی فروخت راولپنڈی عدالت لاؤڈ اسپیکر وی نیوز لاؤڈ اسپیکر کے گلی محلوں میں
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔