کیا لوگ تحمل سے سننا اور بیجا تنقید سے گریز کرنا مصنوعی ذہانت سے سیکھ سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لندن میں مقیم یوکرینی شہری اینا کے مطابق، وہ چیٹ جی پی ٹی کے پریمیئم ورژن کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس لیے استعمال کرتی ہیں کہ یہ روبوٹ نہ صرف صبر سے سنتا ہے بلکہ بغیر کسی فیصلے یا تنقید کے گفتگو کے دوران انہیں خود پر غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
بی بی سی کی رپورٹ میں ایک حالیہ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سنہ 2025 میں اے آئی کے ذریعے سب سے زیادہ استعمال تھراپی اور رفاقت کے لیے ہوا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی کی فراہم کردہ تحریری جوابات بعض اوقات انسانی ردعمل سے زیادہ ہمدرد سمجھے گئے خواہ وہ تربیت یافتہ کرائسز ہاٹ لائن کے عملے ہی کیوں نہ ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ اے آئی ہمیں یہ سکھا سکتا ہے کہ کس طرح بغیر رکاوٹ، غیر جانبدارانہ اور توجہ مرکوز سننا ممکن ہے۔ یہ مشینیں جذبات کی پہچان کر کے اسے ردعمل میں ظاہر کرتی ہیں جس سے بولنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے۔
اے آئی یا مصنوعی ذہانت کے یہ سیکھنے کے طریقے جیسے جذباتی پیچیدگی کو پہچاننا، مشکل احساسات کے لیے جگہ دینا اور غیر ضروری حل پیش نہ کرنا انسانی سامعین کے لیے اہم سبق ہیں۔
تاہم محققین خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی کے ساتھ تعلقات پر ضرورت سے زیادہ انحصار خطرناک ہو سکتا ہے اور حقیقی انسانی تعلقات کی جگہ نہیں لے سکتا۔
ماہر نفسیات ایمیلی کیسریل کے مطابق اے آئی ہمیں بہتر سامع بننے کی تحریک دے سکتا ہے اور ہمدردی کی تربیت میں مدد کر سکتا ہے مگر حقیقی انسانی سننے کے تجربے کی گہرائی اور تبدیلی کی طاقت مشینیں ابھی تک فراہم نہیں کر سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی تحمل سے سننا گڈ لسنر مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی گڈ لسنر مصنوعی ذہانت سکتا ہے اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔