لاہور: (نیوزڈیسک) پنجاب اسمبلی کے 41 ارکانِ اسمبلی کی رکنیت بحال کر دی گئی جبکہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے 9 ارکان کی رکنیت تاحال معطل ہے۔
ذرائع کے مطابق رکنیت معطل ہونے کے باعث 9 ارکان آج ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے 50 میں سے 41 ارکان نے اپنے گوشوارے جمع کرا دیئے ہیں تاہم اپوزیشن اور حکومتی بنچز سے تعلق رکھنے والے 9 ارکان نے تاحال گوشوارے جمع نہیں کرائے، گوشوارے جمع نہ کرانے کے باعث ان ارکان کی رکنیت کی معطلی برقرار رکھی گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے معطل ارکان کی فہرست سکیورٹی عملے کو فراہم کر دی ہے تاکہ اجلاس کے دوران قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی کے گوشوارے جمع ارکان کی کی رکنیت

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟