اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
درآمدات میں اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہا، زرمبادلہ کے ذخائر 16.1 ارب ڈالر، جون تک 18 ارب ڈالر سے تجاوز کی توقع ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگلے ڈیڑھ ماہ کیلئے شرح سود 10.5 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شرح سود کا تعین کیا گیا۔ اجلاس کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے شرح سود کے حوالے سے اعلان کیا۔ گورنر نے بینکوں کی نقد رقوم جمع کروانے کی شرح میں ایک فیصد کم کرکے 5 فیصد مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق دسمبر میں مہنگائی 5.
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق ایف بی آر ریونیو ہدف سے کم رہا، 329 ارب روپے کا شارٹ فال کا سامنا رہا، بینکوں کیلئے کیش ریزرو ریشو 6 سے کم ہو کر 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رواں مالی سال افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں 578 ارب روپے کا اضافہ ہوا، دسمبر 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 244 ملین ڈالر رہا، پہلی ششماہی میں مجموعی خسارہ 1.2 ارب ڈالر رہا، درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی اس کی بڑی وجہ بنی، ترسیلات زر اور آئی سی ٹی برآمدات نے خسارہ قابو میں رکھا۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جون 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اسٹیٹ بینک کی توقع ہے ارب ڈالر
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔