گمبہ سکردو میں انجمن امامیہ کے زیر اہتمام کھلی کچہری کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کھلی کچہری میں مطالبہ کیا گیا کہ خالصہ سرکار کے نام پر عوام کو ہراساں کرنے کا عمل فوراً بند کیا جائے۔ اور لینڈ ریفارمز ایکٹ کے جن شقوں پر اعتراض ہے ان میں ترمیم کے بغیر کسی بھی قسم کے عملدار نہ کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن امامیہ بلتستان سب ڈویژن گمبہ سکردو کے زیرِ اہتمام انجمن امامیہ کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سکردو حمزہ مراد نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کے ہمراہ شرکت کی۔ کھلی کچہری میں سب ڈویژن گمبہ کے عمائدین، نوجوانوں، سماجی رہنماؤں، سیاسی و مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام کو درپیش سنگین مسائل کو براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے رکھنا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا تھا۔ اجلاس میں بجلی کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مسئلہ فوری حل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر 30 جنوری 2026ء کو احتجاج ناگزیر ہو گا۔ زیرِ تکمیل پاور منصوبے جون تا جولائی 2026ء تک ہر صورت مکمل کیے جائیں۔ رمضان المبارک سے قبل تمام مساجد میں سولر سسٹم نصب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ عبادات کے دوران عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
کھلی کچہری میں مطالبہ کیا گیا کہ خالصہ سرکار کے نام پر عوام کو ہراساں کرنے کا عمل فوراً بند کیا جائے۔ اور لینڈ ریفارمز ایکٹ کے جن شقوں پر اعتراض ہے ان میں ترمیم کے بغیر کسی بھی قسم کے عملدار نہ کیا جائے۔ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر نالہ جات پر فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں، خصوصاً کھربو چھومک کے بند اور شگریکلاں کے نالے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ پینے اور آبپاشی کے پانی کے مسائل، خاص طور پر گمبہ، شگریکلاں اور ملحقہ علاقوں میں، فوری طور پر حل کیے جائیں کیونکہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ شگریکلاں، حوطو، رنگاہ، تندل چنداہ اور دیگر علاقوں میں قائم ڈسپنسریوں کو فوراً فعال کیا جائے اور وہاں مستقل ڈاکٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ بینظیر ہسپتال گمبہ میں درپیش سہولیات کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔
حلقہ دو کو آبادی اور رقبے کے تناسب سے دو الگ حلقوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ عوامی مسائل کے حل میں بہتری آئے۔ گرلز کالج شگریکلاں، گمبہ سکردو کا تعمیراتی کام فوری مکمل کیا جائے تاکہ اپریل 2026ء تک طالبات کی منتقلی ممکن ہو سکے۔ تمام ضلعی و محکمانہ دفاتر گمبہ سکردو میں قائم کیے جائیں اور اس حوالے سے عملی اقدامات کیے جائیں۔ تجاوزات کے نام پر جن گھروں، باغات اور املاک کو نقصان پہنچا ہے، متاثرہ افراد کو فوری اور منصفانہ معاوضہ دیا جائے۔ کھلی کچہری کے دوران درج ہونے والی تمام عوامی شکایات پر فوری ایکشن اور عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ آخر میں عوامی نمائندوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بروقت اور مؤثر اقدامات کرے گی تاکہ علاقے کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مطالبہ کیا گیا کھلی کچہری کیے جائیں کیا جائے عوام کو کرنے کا
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز