سندھ: بیشتر مسائل کی جڑ ’’سسٹم‘‘
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
’’کیا قیامت ہے، کیا مصیبت ہے، کہہ نہیں سکتے؍ کس کا ارماں ہے، زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے، حیراں حیراں ہے‘‘۔ قیامتیں، مصیبتیں کراچی والوں کا مقدر ہو گئی ہیں ایک قیامت کا ماتم جاری ہوتا ہے کہ دوسری برپا ہو جاتی ہے، ایک مصیبت کا رونا رو رہے ہوتے ہیں کہ دوسری، تیسری، چوتھی نازل ہو جاتی ہیں، کراچی کے عوام ڈمپروں، ٹینکروں اور ٹرکوں سے کچلے جانے، کھلے گٹروں، ٹوٹے نالوں میں گر کر مرنے پر آہ و بکا کر رہے تھے کہ گل پلازے کا سانحہ ہو گیا، ہنستے کھیلتے، زندگی سے بھرپور مرد، عورتیں، بچے چند گھنٹوں میں کوئلہ بن گئے ٹکڑوں میں بٹ گئے، درجنوں لوگ شہید ہو گئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کا ابھی تک پتا ہی نہیں چل رہا وہ کہاں ہیں بچ گئے یا اینٹ پتھر کے ملبے میں مل گئے۔
مجرموں کا تعین کرنا ایسا مشکل تو نہیں لیکن ہو نہیں سکے گا کیونکہ صوبہ سندھ میں سرکاری سسٹم کے اوپر ایک ’’سسٹم‘‘ نافذ ہے جو سرکاری سسٹم سے بھی زیادہ مضبوط ہے پورے صوبے کے لیے یہ سسٹم بدترین عذاب کی شکل ہے، سندھ میں مسائل کے حل اور ترقی کے لیے اس سسٹم کا خاتمہ ضروری ہے، اس سسٹم کو کوئی توڑ نہیں سکتا کیونکہ جس نے یہ سسٹم بنایا ہے وہ خود حکمران ہے اور ’’اصل حکمران‘‘ کی سر پرستی بھی اسے حاصل ہے بلدیاتی حکومت اور صوبائی حکومت مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وفاقی حکومت میں وہ ساجھے دار ہے انصاف ہوگا، نہیں ہوگا، کب ہوگا یہ الگ بات ہے لیکن اس سانحے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات لوگوں نے لوگوں کے دل چیر دیے ہیں، سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر اور قومی اسمبلی کی موجودہ رکن سیدہ شہلا رضا زیدی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آگ ہے ہو جاتا ہے‘‘ ہائے کیا سفاکی ہے، آگ ہے ہو جاتا ہے، خدانخواستہ کوئی بڑی سیاسی شخصیت آگ میں جل جائے تب بھی وہ ایسا کہہ سکتی ہیں، ہرگز نہیں کہہ سکتیں، محترمہ کے دو بچے کئی برس قبل حادثے میں شہید ہوئے تھے آج بھی ان کا ذکر آتا ہے تو وہ اور ہر سننے والا افسردہ ہو جاتا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اس المیہ پر استعفا نہ دیتے لیکن استعفے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعن طعن تو نہ کرتے، بار بار غصے کا اظہار تو نہ کرتے، وہ بابائے شہر ہیں لوگ ان سے سوال نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کا لب و لہجہ بھی اس کا عکاس ہونا چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گل پلازہ پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے انہوں نے گل پلازہ کی لیز، تعمیر، توسیع اور دیگر حوالوں سے کراچی کے سابق میئرز عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان اور فاروق ستار کے نام لیے لیکن موجودہ میئر کا نام نہیں لیا کیونکہ اس کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، گل پلازہ پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، کیا جو اس المیہ پر بات کر رہا ہے وہ سیاست کر رہا ہے؟
گل پلازہ میں سیکڑوں اضافی دکانیں تعمیر کر لی گئیں، راستوں کو گھیرا گیا ان سب کی روک تھام کون کرتا ہے؟ کون تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتا ہے؟ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنانے والے بتائیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے فرائض کیوں انجام نہیں دیے اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صوبہ سندھ کے ایک ایک شخص کو پتا ہے کہ یہ ادارہ بڑے صاحبان کی اے ٹی ایم ہے اس لیے اس کا کام غیر قانونی تعمیرات کو روکنا نہیں مال بنانا ہے، پیسے لینا اور اجازت دینا، پورے شہر میں جہاں پہلے ایک بنگلہ یا مکان ہوتا تھا آج وہاں 20، 20 منزلہ عمارتیں ہیں اور ان میں چھوٹے چھوٹے سیکڑوں فلیٹس بنے ہوئے ہیں، کیا ان عمارتوں کی اجازت دینے والے افسران سے پوچھا گیا کہ اے بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھنے والے عقلمند لوگو! پانی کی جو لائن، سیورج کی جو لائن ایک خاندان کے لیے ڈالی گئی تھی وہ سیکڑوں خاندانوں کا بوجھ کیسے برداشت کرے گی؟ شہر میں پانی موجود نہیں، ہو تب بھی اس کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی، گٹروں سے لازماً پانی اُبلتا رہے گا، گلیوں اور سڑکوں کو برباد اور عوام کو بیمار کرتا رہے گا، بجلی کی فراہمی کا نظام جو ایک خاندان کے لیے لگایا گیا تھا۔ سیکڑوں خاندانوں کا بوجھ کیسے برداشت کرے گا؟ آج شہر کے بیش تر علاقوں میں پانی، بجلی، گیس، سیوریج کے مسائل خوفناک شکل اختیار کر چکے ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے اختیارات لے کر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنانے والے بتائیں آج شہر کے گلی کوچوں، سڑکوں چوراہوں پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں کیڑے مکوڑوں، مکھیوں، مچھروں، چوہوں کی بہتات ہو گئی ہے بچوں بڑوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، گھروں میں چوہے دندناتے پھرتے ہیں کوئی چیز ان سے محفوظ نہیں رہی۔ شہر کا امن تہ وبالا ہے، موٹر سائیکلیں، کاریں بڑے پیمانے پر چھینی جا رہی ہیں، ڈاکو اتنے بے خوف ہو گئے ہیں کہ لوگوں کو قتل کرنا ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، معمولی سی مزاحمت پر وہ گولی مار دیتے ہیں۔ زمینوں پر قبضے تو پہلے بھی ہو رہے تھے اب ان مکانوں پر بھی قبضے ہو رہے ہیں جن میں لوگ برسوں سے آباد ہیں، اس مقصد کے لیے جعلی دستاویزات تیار کی جاتی ہیں، سرکاری ادارے کے افسران تعاون کرتے ہیں۔
بڑی چھوٹی ہر سڑک پر تجاوزات قائم ہیں، ٹھیلے والے بیچ سڑک پر کھڑے ہیں، خود پولیس موبائل کو بڑی مشکل سے راستہ ملتا ہے لیکن پولیس بالکل لاتعلق ہے کیونکہ اس کا کام پیسے بنانا اور اوپر پہنچانا ہے، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے لیکن وزیراعلیٰ اور وزیروں کو شاید اس کا علم ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے گزرنے کے لیے پہلے سے سڑکیں کلیئر کرانے کا بے انصافی پر مبنی قانون موجود ہے اور اس پر 100 فی صد عمل ہوتا ہے سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں موٹر سائیکل چلانے والے بیش تر افراد اور رکشوں میں سفر کرنے والے بہت سے افراد کمر کے امراض کا شکار ہو چکے ہیں لیکن وزیروں افسروں کو ان مسائل کا علم ہی نہیں کیونکہ ان کے لیے جدید ترین گاڑیاں دستیاب ہیں میری تجویز ہے کہ تمام وزیروں اور افسران سے کاریں واپس لے کر انہیں رکشوں (خاص ان کے لیے بنائے گئے نہیں عام رکشوں) میں سفر کرنے کا پابند بنا دیا جائے تو شہر کے بہت سے مسائل مہینے دو مہینے میں حل ہو جائیں گے۔
جو سانحہ ہو گیا اسے تو اب نہیں بدلا جا سکتا لیکن آئندہ ایسے سانحات نہ ہوں اس کے لیے اقدامات تو کیے جا سکتے ہیں اور ضرور کیے جانے چاہییں سب سے پہلے تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو متحرک کیا جائے، شہر کی تمام رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں زیر زمین منزلوں میں بنی گئی دکانوں، گوداموں کو ختم کیا جائے اور یہ جگہ صرف گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے استعمال کی جائے، شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جو اضافی دکانیں تعمیر کی گئی ہیں انہیں بغیر کسی استثنیٰ کے ختم کیا جائے، دکانداروں کو دکانوں کے باہر سامان رکھنے سے روکا جائے، دکانوں کے باہر رکھا ہوا سامان ضبط کر لیا جائے اور واپس نہ کیا جائے، داخلی و خارجی راستے چیک کیے جائیں، کم ہوں تو مزید بنوائے جائیں، کراچی کی بیش تر عمارتوں میں بجلی، گیس اور دیگر تاروں، کیبلز کو بہت ہی بے ہنگم طریقے سے کھلا چھوڑا ہوا ہے انہیں سلیقے سے کور کرایا جائے، دکانداروں کو دکانیں وقت پر بند کرنے کا پابند کیا جائے، وہ دکانیں صبح کھولنے پر خود مجبور ہو جائیں گے، آج کل دکانیں دوپہر کو کھلتی ہیں اس طرح سورج کی قدرتی روشنی استعمال نہیں ہو پاتی اور رات کو روشنی کے لیے بجلی استعمال کی جاتی ہے اس طرح دکانداروں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، وہ گاہکوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں اور اس طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
شہر میں ہر تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے پارکنگ پلازہ بنائے جائیں اور ان میں واش رومز کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں، شہر میں ایک بہت بڑا پارکنگ پلازہ موجود ہے جو قطعی طور پر ناکام ہو چکا ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا بڑا پلازہ بنانے والوں کے ذہن میں کیا تھا، کیا ان کا خیال تھا کہ زینب مارکیٹ، موبائل مارکیٹ صدر اور گل پلازہ ایم اے جنا ح روڈ میں شاپنگ کے لیے آنے والے لوگ بھی اس پارکنگ پلازہ میں گاڑیاں کھڑی کریں گے، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آج کل لوگ چند فرلانگ بھی پیدل نہیں چلنا چاہتے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہر بڑی عمارت کی اپنی پارکنگ ہو اور سرکاری طور پر چھوٹے پارکنگ پلازا تھوڑی تھوڑی دور پر قائم کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہو جاتا ہے ان کے لیے گل پلازہ کیا جائے کے لیے ا نے والے بھی اس
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔