معجزے کی تشریح نہیں ہوا کرتی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بہت سے زمینی حقائق زمین پر پہنچ کر ہی ٹھیک سمجھ میں آسکتے ہیں۔ وہ جو کہا گیا کہ: ’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘ اس کے سچ میں کیا کلام ہے۔ دیکھا ہوا ہمیشہ سنے ہوئے سے برتر ہوتا ہے۔ رواں ماہ چھے جنوری سے 17 جنوری تک بنگلا دیش میں گزارا ہوا وقت بہت سے عقدے حل کرنے کے لیے بہترین رہا۔ یہ میرا بنگلا دیش کا پہلا سفر تھا۔ میں نے بنگلا دیش پر بہت سی تحریریں اس سفر سے پہلے لکھ رکھی تھیں اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نہ صرف یہ تحریریں پاکستان کے ساتھ بنگلا دیش میں بھی پڑھی جاتی رہیں بلکہ ان میں سیاسی اور معاشرتی معاملات جس طرح ذکر کیے گئے تھے‘ وہ درست تھے۔ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ ہم آپ کے کالم پڑھتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے عام لوگوں کی سوچ بھی جس طرح سمجھی گئی تھی‘ وہ بھی درست نکلی البتہ بہت سی باتیں بہتر انداز میں سمجھ میں آ گئیں۔
ایک عقدے کے سوا سب باتوں کی تشریح ہوتی چلی گئی۔ اس عقدے کو بھی اگر میں معجزاتی کہوں تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں اور آپ سے بھی جواب چاہتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اہلِ بنگال میں بھارت سے بیزاری کی حد تک نفرت اور پاکستان سے محبت کی حد تک پسندیدگی پیدا ہو گئی۔ یہ معجزہ کیسے ہوا کہ کئی نسلوں کو پانچ دہائیوں تک نصابوں میں پڑھایا جاتا رہا کہ پاکستان نے بنگلا دیش پر کیا کیا ظلم کیے تھے۔ لاکھوں بنگالیوں کے قتل‘ اغوا اور نجانے کیا کیا کہانیاں سنائی گئیں۔ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعلق توڑا گیا۔ آنے جانے پر پابندیاں لگائی گئیں۔ پاکستان سے تجارت قریب قریب ممنوع کردی گئی۔ اردو کو ظالم زبان قرار دے کر بنگالی کو اس کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا۔ کئی عشروں تک بھارت کی ثقافتی‘ تجارتی‘ معاشی اور سفارتی یلغار کروائی گئی۔ بھارت کو بہترین دوست اور پاکستان کو بدترین دشمن قرر دیا گیا۔ حسینہ واجد نے اپنے ہر مخالف کو پاکستان کا حامی ’’رضاکار‘‘ ہونے کا طعنہ دیا اور اسی بنیاد پر گولیاں‘ پھانسیاں اور جیلیں مقدر ٹھیریں۔ عوامی لیگ کے علاوہ بھی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں پاکستان سے سرد مہری کا رویہ ہی رکھا گیا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ 55 سال ان پالیسیوں کے بعد اصولاً کیا ہونا چاہیے تھا؟ کیا اس کا نتیجہ عام آدمی کے دل میں پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت ہونا چاہیے؟ کیا اس کا نتیجہ بھارت سے نفرت اور اس کی دشمنی ہونی چاہیے؟ کیا اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ پورے بنگلا دیش میں اردو بولیں تو اسی فی صد لوگ چاہے بول نہ سکیں لیکن سمجھ سکتے ہوں؟ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ اسباب کے لحاظ سے تو یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ نسل جس نے 1971ء اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کے دل میں تو پاکستانیوں کے لیے نفرت ہونی چاہیے تھی۔ وہ جنریشن زی جو 1971ء کے پچیس‘ تیس سال بعد پیدا ہوئی‘ اسے تو پاکستان سے کوئی واسطہ مطلب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ معجزہ کیسے ہوا کہ اہلِ بنگال میں ہر نسل کا فرد خواہ کسی بھی طبقے سے ہو‘ یونیورسٹی کالج سے ہو‘ مدرسے سے ہو‘ شہر سے ہو یا دیہات سے۔ پاکستان کے لیے ہر ایک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔ ان کی آنکھوں اور چہرے میں نفرت اور عناد کی رمق نہیں ملتی۔ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ میں ڈھاکا‘ کاکس بازار‘ چٹاگانگ‘ لوہا گرہ‘ سلہٹ‘ بھالوکا‘ میمن سنگھ‘ غازی پور‘ حبیب نگر اور ان بے شمار قصبوں دیہات میں گھومتا پھرتا اور گزرتا رہا جن کے مجھے نام نہیں آتے۔ گھروں‘ مسجدوں‘ ہوٹلوں‘ طعام گاہوں‘ دکانوں‘ فیکٹریوں میں آتا جاتا رہا اور ہر طبقے کے لوگوں سے ملتا جلتا رہا۔ میں کوشش کرتا تھا کہ پاکستانی شلوار قمیص پہنوں اور لوگوں کے تاثرات جانوں۔ میں اردو میں بات چیت کو ترجیح دیتا تھا‘ ورنہ مجبوراً انگریزی۔ لوگ عام طور پر شکل‘ خدوخال‘ لباس اور زبان سے مجھے پہچان لیتے تھے۔ مجھے تو ہر ایک سے محبت ملی‘ پاکستان کے لیے پیارے جملے سننے کو ملے۔ پاکستان آنے کی شدید خواہش کا اظہار ملا۔ پاکستانی ڈراموں کی تعریف ملی اور بھارت سے بیزاری اور نفرت کا ملا جلا اظہار۔ یہ معجزہ ہو گیا لیکن کیسے ہوا‘ مجھے نہیں معلوم۔
ڈھاکا یونیورسٹی بنگلا دیش میں سیاسی شعور اور سیاسی تحریکوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ قومیت کی نمائندہ بھی۔ اس کی اٹھائی ہوئی تحریکیں پورے ملک میں پھیلتی ہیں۔ 50 کے عشرے کی بنگالی زبان کے لیے تحریک ہو یا 1971ء کے لگ بھگ قومیت کی بنیاد پر تحریکیں۔ ڈھاکا یونیورسٹی سب میں پیش پیش تھی۔ اسی ڈھاکا یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں دو بار جانا ہوا۔ اساتذہ‘ طلبہ و طالبات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ شعبہ اردو ڈھاکا یونیورسٹی نے میرے لیے 15جنوری کو ایک تقریب کا اہتمام کیا لیکن میں اْس دن سلہٹ میں تھا اس لیے موجودگی ممکن نہیں تھی‘ سو معذرت کرنا پڑی۔ لیکن ڈھاکا یونیورسٹی میں جتنی بھی ملاقاتوں کا موقع ملا‘ اس میں پاکستان اور پاکستانیوں سے دوری کہیں نظر نہیں آئی۔ نئی نسل پاکستان آنے کے لیے بے تاب نظر آئی۔ وہ اردو جانتی اور سمجھتی ہے‘ خواہ ٹھیک سے بول نہ سکتی ہو۔ میں نے سوچا اردو کیسے اس ملک میں اتنی مقبول ہے جو الگ ہی زبان اور قومیت کی بنیاد پر ہوا تھا۔ مجھے اس کی دو واضح وجوہات نظر آئیں۔ مدارس‘ اور پاکستانی اردو ڈرامے۔ مدرسوں کا نظام بنگلا دیش میں شاید پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط ہے اور اردو زبان پہلے درجے سے آخر تک لازمی ہے۔ کئی علوم میں اردو اور عربی میں پرچہ حل کرنے پر اضافی نمبر ہیں۔ مدارس کے بے شمار اساتذہ پاکستان کے تعلیم یافتہ ہیں‘ چنانچہ اردو روانی سے بولتے اور لکھتے پڑھتے ہیں۔ یہ سب ایک طرح سے بنگلا دیش میں پاکستان اور اردو کے سفیر ثابت ہوئے۔ اہلِ مدرسہ نے 1971ء کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ اردو سے لاعلمی اپنے پورے علمی ذخیرے سے کٹ جانا ہو گا‘ اس لیے انہوں نے اردو سے جڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح پاکستانی ڈراموں کی غیرمعمولی مقبولیت پورے بنگلا دیش میں عروج پر ہے۔ مجھے کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے بتایا کہ ہمیں اردو زبان پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر آئی ہے۔
حالیہ سفر میں ایسا نہیں ہوا کہ میرا ملنا جلنا کسی خاص حلقے اور طبقے تک محدود رہا ہو۔ میرا تاثر ہے کہ اہلِ بنگال میں سیاسی شعور بھی زیادہ ہے اور وہ اپنے حقوق کے معاملے میں جذباتی بھی ہیں۔ بنگلا میوزیم میں بھی جانا ہوا جو بنگالی زبان کی تحریک کے یادگار کے طور پر ایک تاریخی عمارت کے اندر قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح بنگلا اکیڈمی بنگالی زبان کے فروغ کے لیے ایوب خان کے زمانے میں قائم کردہ سرکاری ادارہ ہے‘ جو اَب تک کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ اگرچہ خود مختار ہے لیکن ڈھاکا یونیورسٹی کے اندر واقع ہے۔ میں اس کے سربراہ سے بھی ملا جو بنگلا زبان کے آدمی ہیں اور قومیت پرست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلا اکیڈمی زبان کی لغات پر بھی کام کر رہی ہے اور اگرچہ پورے ملک میں چند چھوٹی زبانوں سے قطع نظر بنگالی زبان تو ایک ہے لیکن اس کے لہجے اور تلفظ مختلف بھی ہیں۔ ان سب پر بنگلا اکیڈمی کام کرتی ہے۔ اس کے شعبہ مطبوعات کا اشاعتی معیار بھی متاثر کن ہے۔ یہ سب تفصیل بتانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ میری ملاقاتیں مختلف نظریات کے لوگوں سے ہوتی رہیں اور میں ان سب کے مختلف تاثر نوٹ کرتا رہا۔ ظاہر ہے عوامی لیگ کے حامی جو اَب بھی مختلف سرکاری اداروں میں اوپر سے نیچے تک بڑی تعداد میں موجود ہیں‘ اْس عوامی تحریک سے ہم آہنگ نہیں جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح قومیت پرست ذہن بھی موجودہ تبدیلیوں سے خوش نہیں بلکہ خوفزدہ ہے جس میں قومیت سے ہٹ کر تحریک اٹھائی گئی اور جس کی قیادت دائیں بازو کے ہاتھ میں رہی ہے۔ میں نے یہ سوال کئی بنگالیوں سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان اور اردو کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ ان میں ایک صاحب کا کہنا تھا کہ یہ محبت شروع ہی سے تھی البتہ اسے دبایا جاتا رہا ہے۔ ایک صاحب کا خیال تھا کہ بھارت سے بیزاری اور پاکستان سے محبت حالیہ کچھ عشروں کی پیداوار ہے۔ بات کچھ بھی ہو‘ اصل بات یہ ہے کہ معجزوں کی تشریح نہیں ہو سکتی اور یہ معجزہ ہوتے ہم نے دیکھا ہے۔ (بشکریہ: روز نامہ دنیا)
سعود عثمانی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یہ معجزہ کیسے ہوا ڈھاکا یونیورسٹی بنگلا دیش میں میں پاکستان بنگالی زبان اور پاکستان پاکستان اور پاکستان سے پاکستان کے ہونا چاہیے پاکستان ا بھارت سے نہیں ہو ہوا کہ تھا کہ
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔