یخ بستہ سرد ہوائوں سے مریضوں،تیمارداروں کومشکلات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
محکمہ نے کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں سردی سے محفوظ رہنے کیلئے کوئی شیلٹرہوم قائم نہیں کیے
کھڑکیا دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار،تیماردار راتیں اسپتالوں کی فٹ پاتھ پر بسر کرنے پر مجبور
کراچی میں یخ بستہ سرد ہوائوں نے سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریض اور ان کے تیماردار شدید مشکلات کی زد میں ہیں۔ محکمہ کی جانب سے کوئی شیلٹر تعمیر نہیں کیے گئے جبکہ سرکاری اسپتالوں کی ان عمارتوں میں جہاں مریض داخل ہیں کھڑکیا دروازے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔کراچی سمیت اندرون سندھ کے کسی بھی سرکاری اسپتالوں میں سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی شیلٹرہوم قائم نہیں جس کی وجہ سے مریضوں کے اہلخانہ کھلے آسمان کے نیچے اسپتالوں کی فٹ پاتھوں پررات کے اوقات میں شدید اذیت سے گزار رہے ہیں، ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔اسپتالوں کی انتظامیہ کے مطابق اسپتالوں میں شیلٹرہوم اس لیے قائم نہیں کیے گئے کہ اسپتالوں میں رات کے اوقات میں غیر متعلقہ افراد بھی سونے کے جگہ تلاش کرتے ہیں جس سے اسپتالوں میں تیماداروں کے سامان کی چوری کے واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں۔ اس شدید سرد موسم کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کے اہلخانہ اپنے اپنے پیاروں کو گھروں سے لحاف کمبل لائے جارہے ہیں جبکہ تیمارداروں کو اس سرد موسم میں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اندرون سندھ سے آئے ہوئے ایک مریض کے تیمادارعاشق بھٹو نے بتایا کہ سانگھڑ سے جناح اسپتال میں اپنے بھائی کے علاج کے لیے ایک ہفتے سے آئے ہوئے ہیں ۔اسپتال کی اوپی ڈی میں بھائی کو چیک اپ کرایا اوربھائی کو داخل کردیا بھائی کے پتے کا آپریشن ہونا ہے تقریبا 5دن ہوگئے آپریشن کی تاریخ ملتی اور تبدیل ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں شدید سردی ہے،شام ہوتے ہیں کراچی میں سرد ہوائیں چلتی ہیں اسپتال میں مریضوں کے تیماداروں کے لیے کوئی شیلٹرہوم نا ہونے کی وجہ سے راتیں سخت سردی میں گزراہے ہیں کسی کوہم غریبوں کے مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھلے آسمان کے نیچے سردہواوں میں رات گزارتے ہیں۔ ہم مجبوری میں سرکاری اسپتال میں علاج کرارہے ہیں۔قومی ادارہ برائے امراض قلب اسپتال میں دل کے ایک مریض کے والد دوست میمن نے بتایا کہ ٹھٹھہ سے اپنے نوجوان بیٹے کو علاج کی غرض سے اسپتال لائے تھے جہاں ایمرجنسی میں معائنے کے بعد فوری آپریشن کرانے کی ہدایت دی۔انہوں نے بتایا کہ امراض قلب کے اسپتال میں بھی مریضوں کے تیماردار راتیں فٹ پاتھ پر بسر کرتے ہیں، ہر تیماردار اپنے لیے بستر کا انتظام خود کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ گتے کے ٹکرے بطور گڈے اور بوریاں بطور چادر استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بستر خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔جناح اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ اسپتال میں مریضوں کے تیمارداروں کی مشکلات حل کرنے کے لیے انتظامیہ کوشش کرتی ہے اور مریضوں کی خواتین تیمارداروں کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ قائم ہے، زیادہ پناہ گاہ اس لیے قائم نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا غیر ضروری استعمال شروع ہوجاتا ہے۔سول اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بخاری نے بتایا کہ اسپتال میں تیمارداروں کے لیے کوئی مستقل شیلٹر ہوم نہیں ہے، کئی مقامات پر عارضی سائبان قائم کئے گئے ہیں، اسپتال میں مریضوں کا رش زیادہ ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ مریضوں کے تیمارداروں کا فلاحی اداروں کے تعاون سے خیال رکھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سرکاری اسپتالوں سرکاری اسپتال اسپتالوں میں اسپتالوں کی کے تیماردار نے بتایا کہ اسپتال میں مریضوں کے قائم نہیں انہوں نے نہیں کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔