اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ سات بلوں کی منظوری دے دی ہے جس کے ساتھ تجارت، ٹیکس، سماجی تحفظ، تعلیم، ریلوے اور انسانی حقوق سے متعلق اقدامات کے لئے قانون سازی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق منظور شدہ قانون سازی میں نیشنل ٹیرف کمیشن (ترمیمی)بل 2026،ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ترمیمی) بل2026ء،ریلوے کی منتقلی (ترمیمی) بل 2026،  گھریلو تشدد (انسداد و تحفظ) بل 2026، دانش سکولز اتھارٹی بل 2026،انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2026 اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (ترمیمی) بل، 2026ء شامل ہیں۔ دریں اثناء صدر زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے صاف توانائی کی جانب منتقلی کو قومی ترجیح بنا لیا آلودگی سے پاک توانائی جامع ترقی اور موسمیاتی اہداف کیلئے ناگزیر ہے صدر زرداری نے واضح کیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حوصل کیلئے توانائی کے مؤثر استعمال پر ناگزیر ہے صاف توانائی ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے علاوہ ازیں صدر آصف زرداری نے آسٹریلیا کے قومی دن پر گورنر جنرل اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ امن اور مشترکہ خوشحالی کیلئے قریبی تعاون کیلئے  پرعزم ہے موسمیاتی مزاحمت اور جدت میں پاکستان آسٹریلیا تعاون کے نئے مواقع موجود ہیں۔ دریں اثناء  دریں اثناء صدر  زرداری آج 26 تا 29 جنوری 2026  تک متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے،دورے میں ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا۔پیرکو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق  یو اے ای کے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری متحدہ عرب امارات کی قیادت سے اعلیٰ سطح کی  ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارت و اقتصادی شراکت داری، دفاع و سلامتی، اور عوامی روابط کے شعبہ جات میں تعاون پر گفتگو ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن