میلان سرمائی اولمپک گیمز کے لیے چینی وفد کا قیام
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
میلان سرمائی اولمپک گیمز کے لیے چینی وفد کا قیام WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
سرمائی اولمپک گیمز میں چینی وفد 286 افراد پر مشتمل ہے
بیجنگ ()
پچیسویں سرمائی اولمپک گیمز کے لیے چینی کھیلوں کے وفد کا قیام باضابطہ طور پر عمل میں آیا۔ یہ سرمائی اولمپک گیمز 6 سے 22 فروری 2026 تک اٹلی کے شہر میلان- کورٹینا میں منعقد ہوں گے جس میں کل 16 ڈسپلنز میں 116 ایونٹس ہوں گے۔ موجودہ سرمائی اولمپک گیمز میں چینی وفد 286 افراد پر مشتمل ہے جن میں 126 کھلاڑی (68 خواتین اور 58 مرد) اورعملے کے 160 ارکان شامل ہیں۔
کھلاڑی 7 کھیلوں کے 15 ڈسپلنز کے 91 ایونٹس میں حصہ لیں گے۔ یہ بیرون ملک منعقدہ سرمائی اولمپک گیمز میں چین کے کھلاڑیوں اور مقابلوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
چینی وفد میں سے 59 ارکان اس سے قبل سرمائی اولمپکس میں حصہ لے چکے ہیں اور ان میں سے 9 نے بیجنگ سرمائی اولمپک گیمز میں سونے کے تمغے جیتے ہیں جب کہ کھلاڑیوں میں 67 کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار سرمائی اولمپک گیمز میں حصہ لے رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور بیلٹ اینڈ روڈ کے شراکت دار ممالک کے درمیان سال 2025 میں اشیا کی تجارت کا حجم 23.6 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا سری لنکا کے ہائی کمشنر کا ایل او ایل سی مائیکرو فنانس لمیٹڈ کی 88ویں شاخ کا افتتاح ٹی 20ورلڈ کپ میں شرکت،پاکستان کی اعلی سطح پر مشاورت،فیصلہ موخر بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی، پاکستانی کھلاڑیوں کا ورلڈ کپ کے میچوں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کا امکان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا، محسن نقوی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، آئی سی سی کا بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرمائی اولمپک گیمز چینی وفد کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔