کراچی میں سیاسی ہلچل، پیپلز پارٹی کی ناراضگی پر ایم کیو ایم قیادت کی سیکیورٹی اچانک واپس
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں سیاسی کشیدگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کو فراہم کی گئی سرکاری سیکیورٹی فوری طور پر واپس بلا لی گئی۔
اسی طرح انیس قائم خانی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سیکیورٹی بھی ختم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے۔
سانحہ گل پلازہ، ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی
ایم کیو ایم نے کبھی اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی بات نہیں کی، خالد مقبول
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔
سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ایم کیو ایم خالد مقبول ایم کی
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔