پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
لاہور:(آئی پی ایس) پنجاب حکومت نے بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کردیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں سمیت 30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری و خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔
لاہور میں بسنت 2026 کی مشروط اجازت، ممنوعہ ڈور کے استعمال اور بیچنے پر پابندی
پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دیدی
حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا، دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاہور میں 6 تا 8 فروری محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے، بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کیلئے پابندیاں عائد کی ہیں، دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے جبکہ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی سی سی نے بنگلادیشی صحافیوں کو ٹی 20 ورلڈکپ کی کوریج سے روک دیا آئی سی سی نے بنگلادیشی صحافیوں کو ٹی 20 ورلڈکپ کی کوریج سے روک دیا امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون: نئے افق کی طرف راولپنڈی: فیصل ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کے خلاف سخت قانونی کارروائی، مالک کے بھائی سمیت ایک ملزم گرفتار چین کی چودہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی کوریج...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پابندیاں عائد دفعہ 144 کے تحت کی تیاری کی اجازت بسنت کے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔