این سی سی آئی اے کو پراسیکوٹرز کی تعداد بڑھانا ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ جس طرح آبادی بڑھی ہے اسی طرح این سی سی آئی اے کو پراسیکوٹرز کی تعداد بھی بڑھانا ہو گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں این سی سی آئی اے پراسیکوٹرز کی عدم دستیابی پر کیسز میں التوا کے معاملے پر سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈی جی این سی سی آئی اے عارف شہباز وزیر عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے ایڈیشنل ڈی جی سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کتنے پراسیکوٹرز ہیں؟ جس پر حکام نے جواب دیا کہ ہمارے پاس 9 لوگ ہیں، اسلام آباد میں ایک ہی پوسٹ ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں ماہانہ دو سو کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ تمام عدالتوں کو ملاکر 15 ہزار کیسز ہوں گے، ٹرائل کورٹ میں گواہ موجود ہیں وکیل موجود ہے لیکن آپ کا پراسیکوٹر موجود نہیں جس کی وجہ سے ٹرائل آگے نہیں چل رہا، پراسیکیوٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹرائل کورٹ میں بیان نہیں لکھا جا رہا، جس طرح آبادی بڑھی ہے اسی طرح آپ کو پراسیکوٹرز کی تعداد بھی بڑھانا ہوگی۔
این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ ہم یہ تعداد بڑھا رہے ہیں اور ڈیپوٹیشن پر بھی لے رہے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ یہ ہدایات دیں گے کہ جب بیان پراسیکوٹر لکھوا لے تو اس کے بعد مدعی کا وکیل کیس آگے بڑھائے گا۔ این سی سی آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس 367 بلاسفیمی کے کیسز ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے پراسیکوٹرز کی
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔