سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے یا حج پر جانے سے متعلق شائع ہونے والی خبروں پر ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک)سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے یا حج پر جانے سے متعلق شائع ہونے والی خبروں پر ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت آگئی، ان کاکہناتھاکہ سرکاری خرچ پر کسی بھی ایسے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن کسی ایسی تجویز کی منظوری نہیں دی گئی۔
قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ممبران کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں اور نہ ہی یہ سہولت دی جا سکتی ہے, قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر 12 ربیع الاول کو روزہ رسول پر حاضری دیتا ہے۔
کراچی،مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد کی شہرقائد کو وفاق یا فوج کے حوالے کرنے کی وال چاکنگ
ترجمان نے مزید بتایاکہ قرارداد کی روشنی میں وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں, ایس او پیز کے تحت وزارت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی صرف انتظامی امور کے لیے سہولت مہیا کرتی ہے جس کے تحت وزارت بھی کوئی اخراجات برداشت نہیں کرتی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔