اسلام آ باد/ اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے خاتون کی جانب سے سابق شوہر کی بریت کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ تحریری فیصلہ بھی جسٹس محمد علی مظہر نے جاری کیا۔

فیصلے کے مطابق خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ سابق شوہر نے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) میں جعلی نکاح نامہ جمع کرا کر غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ نکاح نامے میں ان کا نام ’’قیصر خانم‘‘ درج تھا، جبکہ ان کا اصل نام ’’شائستہ قیصر‘‘ ہے۔

سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ خاتون کو 2002 میں ’’قیصر خانم‘‘ کے نام سے ہی قومی شناختی کارڈ جاری ہوا تھا۔ عدالت کے مطابق طلاق کے بعد 2012 میں خاتون نے اپنا نام تبدیل کروا کر ’’شائستہ قیصر‘‘ رکھا۔ مزید یہ کہ شادی کے دوران خاتون ’’قیصر خانم‘‘ کے نام پر ہی پی اے سی کا میڈیکل کارڈ استعمال کرتی رہیں اور اسی نام سے تین مرلے زمین بھی خریدی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق 5 اپریل 2011 کو ہوئی، جبکہ مقدمہ سات سال بعد 2018 میں درج کرایا گیا، جس کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مبینہ جعلی نکاح نامہ نہ تو فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا اور نہ ہی ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ سے تصدیق کرائی گئی۔ پی اے سی کے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے بھی کوئی انکوائری افسر یا ریکارڈ کیپر بطور گواہ پیش نہیں ہوا۔

سپریم کورٹ کے مطابق اصل نکاح نامہ خود خاتون کے قبضے میں تھا جو انہوں نے ٹرائل کورٹ میں پیش کیا، اور وہ آغاز سے ہی نکاح نامے کے وجود اور اس پر درج نام سے باخبر تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی قسم کا دھوکا ہوا بھی ہو تو قانونی کارروائی کا حق متعلقہ ادارے کو تھا، نہ کہ خاتون کو۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سابق شوہر کے خلاف دھوکا دہی، غلط بیانی یا بدنیتی کے عناصر ثابت نہیں ہو سکے، اس لیے بریت کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ سابق شوہر

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ