سپریم کورٹ نے خاتون کے بیان کے تضاد پر سابق شوہر کی بریت کیخلاف اپیل مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آ باد/ اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے خاتون کی جانب سے سابق شوہر کی بریت کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ تحریری فیصلہ بھی جسٹس محمد علی مظہر نے جاری کیا۔
فیصلے کے مطابق خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ سابق شوہر نے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) میں جعلی نکاح نامہ جمع کرا کر غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ نکاح نامے میں ان کا نام ’’قیصر خانم‘‘ درج تھا، جبکہ ان کا اصل نام ’’شائستہ قیصر‘‘ ہے۔
سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ خاتون کو 2002 میں ’’قیصر خانم‘‘ کے نام سے ہی قومی شناختی کارڈ جاری ہوا تھا۔ عدالت کے مطابق طلاق کے بعد 2012 میں خاتون نے اپنا نام تبدیل کروا کر ’’شائستہ قیصر‘‘ رکھا۔ مزید یہ کہ شادی کے دوران خاتون ’’قیصر خانم‘‘ کے نام پر ہی پی اے سی کا میڈیکل کارڈ استعمال کرتی رہیں اور اسی نام سے تین مرلے زمین بھی خریدی گئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق 5 اپریل 2011 کو ہوئی، جبکہ مقدمہ سات سال بعد 2018 میں درج کرایا گیا، جس کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مبینہ جعلی نکاح نامہ نہ تو فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا اور نہ ہی ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ سے تصدیق کرائی گئی۔ پی اے سی کے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے بھی کوئی انکوائری افسر یا ریکارڈ کیپر بطور گواہ پیش نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ کے مطابق اصل نکاح نامہ خود خاتون کے قبضے میں تھا جو انہوں نے ٹرائل کورٹ میں پیش کیا، اور وہ آغاز سے ہی نکاح نامے کے وجود اور اس پر درج نام سے باخبر تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی قسم کا دھوکا ہوا بھی ہو تو قانونی کارروائی کا حق متعلقہ ادارے کو تھا، نہ کہ خاتون کو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سابق شوہر کے خلاف دھوکا دہی، غلط بیانی یا بدنیتی کے عناصر ثابت نہیں ہو سکے، اس لیے بریت کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ سابق شوہر
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔