data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے حج یا عمرے پر جانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر قومی اسمبلی کے ترجمان کی جانب سے واضح تردید سامنے آ گئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان قومی اسمبلی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور قومی اسمبلی کے ارکان کو حج یا عمرے کی کوئی سرکاری سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔

ترجمان کے مطابق قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے حج یا عمرے سے متعلق کسی قسم کی رعایت یا سہولت نہ تو موجود ہے اور نہ ہی قواعد و ضوابط کے تحت ایسی کوئی سہولت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض خبروں میں یہ تاثر دیا گیا کہ ارکانِ اسمبلی سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے مذہبی فریضہ ادا کرتے ہیں، جو حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

وضاحتی بیان میں بتایا گیا کہ نومبر 2016 میں قومی اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی، جس کے تحت ہر سال 12 ربیع الاول کو قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل ایک وفد ذاتی اخراجات پر روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتا ہے۔ اس قرارداد کی روشنی میں وفد کے تمام ممبران اپنے سفری اور قیام کے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اس موقع پر وزارت مذہبی امور کی جانب سے صرف انتظامی نوعیت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس میں کسی بھی قسم کے مالی اخراجات شامل نہیں ہوتے۔ وزارت مذہبی امور نہ تو سفری اخراجات ادا کرتی ہے اور نہ ہی قیام یا دیگر مالی ذمہ داریاں اٹھاتی ہے۔

قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق اگر کسی فرد کی جانب سے سرکاری خرچ پر ایسے دوروں کی تجویز سامنے آئی ہو تو وہ محض ذاتی رائے ہو سکتی ہے، تاہم ایسی کسی تجویز کی منظوری نہ دی گئی ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی میں اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ موجود نہیں۔

وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے معاملات شفافیت اور قواعد کے مطابق چلائے جاتے ہیں اور عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے والی خبروں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے میڈیا پر زور دیا کہ قومی اداروں سے متعلق خبریں شائع کرنے سے قبل مستند معلومات کی تصدیق کو یقینی بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کے کے مطابق

پڑھیں:

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

اسلام آباد:

ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی غفلت پر کسی سے کوئی رعایت نہیں بلاتفریق ایکشن ہوگا، وزیر محنت سندھ
  • باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن