سیاحتی مقامات میں شدید برفباری؛ سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سٹی 42: سیاحتی مقامات شوگراں کاغان آور ناران میں شدید برفباری کا سلسلہ رات سے بدستور جاری ہے ۔
شدید برفباری کی وجہ سے وادی کاغان وادی سرن آور کونش ویلی میں شدید متاثر ہوئی ۔ وادی کاغان میں برفباری کا سابقہ 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔شوگراں میں آب تک مزید ڈیڑھ فٹ جبکہ کاغان بازار میں 2 فٹ سے زائد برف پڑ چکی ہے جبکہ شوگراں میں برف کی 4 فٹ کاغان میں 3 فٹ سے زائد تہہ جم چکی ہے ۔
وادی کاغان میں پھر سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شہری برفباری والے علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔کے ڈی اے اور این ایچ اے کی مشینری شوگراں کاغان کی رابطہ سڑکوں سے برف صاف کرنے میں مصروف ہے ۔ شہری ان وادیوں میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کاغان بازار میں برفباری سے ہوٹل کی چھت منہدم ہو گئی ۔ہوٹل خالی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔