افغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، انوار الحق کاکڑ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
افغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، انوار الحق کاکڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )سابق نگران وزیر اعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ افغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، اسمگلنگ کے خاتمہ سے فائدہ پاکستانی عوام کو ہی پہنچے گا۔ آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام نوجوانوں کی فکری تربیت کیلئے “ونٹر انٹرن شپ 2026” کا انعقاد کیا گیا جس میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے طلبا کے ساتھ خصوصی نشست میں بلوچستان کے حوالے سے فتنہ الہندوستان کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو آشکار کیا۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ شدت پسند عناصر نے بلوچستان کے حوالہ سے جھوٹے اور گمراہ کن بیانیہ کے تحت مسلح گروہ اور جتھے تشکیل دیے، یہ گروہ دلیل اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کی دلچسپی مفاہمت میں نہیں بلکہ تصادم اور بدامنی میں ہے۔سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے دشمن ان مسلح جتھوں کو جواب دینا ریاستی اداروں کا آئینی اور قانونی حق ہے، علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں افواج پاکستان محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود مثر حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس آج بلوچستان میں ہزاروں اسکول، کالجز اور درجنوں یونیورسٹیز سمیت اسپتال بھی فعال ہیں، وفاقی حکومت کے تعاون سے کاروباری طبقہ اور سیاسی قیادت دونوں میں مقامی افراد نمایاں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مفاہمت، ہم آہنگی اور ترقی کیلئے ریاست، میڈیا اور عوام سب کو مشترکہ ذمہ داری نبھانا ہوگی، صرف عوام کے ذریعے شرپسند عناصر کے منفی بیانیہ کا تدارک او ر پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نیب اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جاپان کے سفارت خانے نے ٹائم-لوپ کامیڈی “مانڈیز: سی یو ‘ذس’ ویک!” کی فلم اسکریننگ کی میزبانی کی وادی تیراہ نقل مکانی: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی بیان مسترد کر دیا سانحہ گل پلازہ: شہدا کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دے دی گئی سانحہ گل پلازہ کے باعث چوہدری شجاعت حسین کی سالگرہ کی تقریبات منسوخCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔