سردی کے موسم میں اکثر سر میں شدید درد کیوں رہتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سر میں درد ہونا بظاہر ایک معمولی سی شکایت لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ جسم کی جانب سے بھیجا جانے والا ایک اہم اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔
یہ تکلیف بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے اور بعض اوقات روزمرہ معمولات میں بگاڑ یا کسی اندرونی طبی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
سردی کے موسم میں اکثر سر درد اور بھاری پن کی شکایت محسوس ہوتی ہے۔ سر درد کے علاج کےلیے اس کی قسم کا علم ہونا لازم ہے۔ سردی کے موسم میں ہونے والا درد کس قسم سے تعلق رکھتا ہے یہ جاننا ضروری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ہر دوسرا بالغ فرد سال میں کم از کم ایک مرتبہ سر درد کا سامنا ضرور کرتا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر سر درد ایک جیسا نہیں ہوتا، کچھ ذہنی دباؤ سے جنم لیتے ہیں، کچھ پانی کی کمی، نیند کی خرابی، غلط نشست یا جسم میں موجود کسی اور مسئلے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سر درد کی نوعیت اور وجہ کو سمجھنا علاج کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے۔ جب تک یہ واضح نہ ہو کہ درد کس وجہ سے ہو رہا ہے، مستقل آرام ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مختلف اقسام کے سر درد کے لیے مختلف حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے، جو نہ صرف تکلیف کو کم کرتی ہے بلکہ بار بار لوٹ آنے والے درد سے بھی بچا سکتی ہے۔
ٹینشن ہیڈک
سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم کو ٹینشن ہیڈیک کہا جاتا ہے۔ اس میں عموماً پیشانی یا گردن کے پچھلے حصے میں ہلکا مگر مسلسل دباؤ محسوس ہوتا ہے، جیسے سر کو کسی پٹی سے جکڑ دیا گیا ہو۔ اکثر یہ درد آرام کرنے، پانی پینے یا عام دردکش دوا لینے سے بہتر ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند کی کمی، غلط بیٹھنے کا انداز اور اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے آنکھوں پر پڑنے والا زور اس کے عام اسباب ہیں۔
مائیگرین
ٹینشن ہیڈیک کے برعکس مائیگرین کو کہیں زیادہ شدید اور پریشان کن سمجھا جاتا ہے۔ اس میں درد کے ساتھ متلی، تیز روشنی یا آواز سے حساسیت اور بعض اوقات آنکھوں کے سامنے چمکتی لکیروں یا دھندلے دھبوں جیسے بصری مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈس آرڈرز اینڈ اسٹروک کے مطابق مائیگرین تقریباً بارہ فیصد آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے بچاؤ کے لیے اپنے ذاتی محرکات کی پہچان بہت ضروری ہے، جن میں ہارمونز میں تبدیلی، خاص غذائیں جیسے چاکلیٹ، پنیر یا کیفین، موسم کا بدلنا اور بے قاعدہ نیند شامل ہو سکتی ہے۔
کلسٹر ہیڈیک
کلسٹر ہیڈیک نسبتاً کم پایا جاتا ہے مگر اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ درد مخصوص وقفوں سے یا ایک خاص دورانیے میں بار بار ظاہر ہو سکتا ہے اور اکثر رات کے وقت نیند سے جگا دیتا ہے۔ عام طور پر یہ سر کے ایک حصے اور آنکھ کے گرد شدید چبھتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اکثر مریض کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔
ماہرین کے مطابق الکحل یا سگریٹ نوشی، بلند مقامات پر جانا، شدید گرمی یا بعض مخصوص دوائیں اس قسم کے درد کو بھڑکا سکتی ہیں۔
سائی نَس ہیڈیک
جب مسئلہ سائی نَس سے جڑا ہو تو سر درد کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے۔ ایسے میں پیشانی، گالوں اور آنکھوں کے اطراف بھاری پن یا درد محسوس ہوتا ہے جو دراصل سوزش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ تکلیف عام طور پر ڈی کنجیسٹنٹس، نمکین پانی سے ناک صاف کرنے یا انفیکشن کی صورت میں اینٹی بایوٹکس سے بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ناک بند ہونا، چہرے میں دباؤ، ناک کے پچھلے حصے کی طرف رطوبت بہنا اور کبھی کبھار بخار بھی سامنے آ سکتا ہے۔
کیفین کے باعث درد
کچھ افراد کے لیے کیفین بھی سر درد کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر جب روزانہ کافی یا چائے پینے والے لوگ اچانک اس کا استعمال کم کر دیں یا غیر معمولی حد تک زیادہ لے لیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کیفین کو آہستہ آہستہ کم کرنا اور پانی کی مقدار بڑھانا ایسے درد کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس قسم کے سر درد کے ساتھ اکثر چڑچڑاپن اور غیر معمولی تھکن بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر سر درد بار بار ہو، بہت شدید ہو یا اس کے ساتھ دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ بعض اوقات یہی تکلیف جسم کی جانب سے کسی بڑے مسئلے کی طرف اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق سکتی ہے جاتا ہے ہوتا ہے کے ساتھ درد کے
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی